Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
403 - 4047
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 402
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے بیٹھ گیا عرض کرنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے کچھ غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں گالیاں دیتا ہوں مارتا ہوں ۱؎  تو ان کے متعلق میرا کیا حال ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ان خیانتوں نافرمانیوں اورجھوٹوں کا اور تیرا انہیں سزا دینے کا حساب لگایا جاوے گا۲؎ پھر اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے جرموں کے بقدر ہوگی تو ادلًا بدلًا ہوجاوے گا نہ تجھے مفید نہ مضر ۳؎  اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصوروں سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی۴؎ اور اگر تیرا انہیں سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جاوے گا ۵؎ تو وہ آدمی الگ ہٹ گیا اور چیخیں مارنے رونے لگا۶؎  تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو رب کایہ فرمان نہیں پڑھتا کہ ہم قیامت کے دن انصاف والی ترازو رکھیں گے ۷؎ تو کوئی جان کچھ بھی ظلم نہیں کی جاوے گی اگر رائی کے دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے بھی لائیں گے،ہم کافی حساب لینے والے ہیں۸؎  تو وہ شخص بولا یارسول اللہ میں اپنے اور ان غلاموں کے لیے انکی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ سارے آزاد ہیں ۹؎ (ترمذی)
شرح
۱؎  یعنی اس عمل کی وجہ سے میرا کیا حال ہوگا آیا میں اس مارپیٹ گالی گلوچ میں حق بجانب ہوں یا نہیں اور اس کی وجہ سے میری کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی۔

۲؎  یعنی ان غلاموں کے جرم اور تیری سزا کا حساب لگایا جاوے گا کہ دونوں برابر ہیں یا ایک دوسرے سے کچھ کم و بیش ہیں۔معلوم ہوا کہ سزا اور جرم کی حدود مقرر ہیں۔

۳؎  یعنی چونکہ نہ ان کے جرم کم ہیں نہ تیری سزا زیادہ ہے اس لیے نہ تجھ پر کچھ وبال ہوگا نہ تجھے کوئی ثواب ملے گا حساب برابر رہے گا۔

۴؎  یعنی اگر غلاموں کے جرم زیادہ ہوئے اور تیری سزا کم تو غلاموں کی پکڑ ہوگی تو تجھے ثواب ملے گا کہ تو نے ان غلاموں کو ان کے جرم سے کم سزا دی ان کے بعض جرموں پر عفو و تحمل سے کام لیا ہے۔

۵؎  اس فرمان عالی سے حکام،مدرسین و معلمین،خاوندوں،ماں باپ کو عبرت لینی چاہیے اگر یہ لوگ اپنے ماتحتوں کو ان کے جرم سے سزا زیادہ دیں گے تو یقینًا پکڑے جائیں گے۔کبھی استاد غصہ میں اپنے شاگردوں کو بے تحاشا مار دیتا ہے اس کی بھی پکڑ ہے۔علامہ شامی نے فرمایا کہ تین طمانچہ سے زیادہ ہرگز نہ مارے اور طمانچہ بھی منہ پر نہ مارے،بلا قصور ہرگز نہ مارے،بعض لوگ اپنی بیویوں کو بات بات پر مارتے ہیں اور بہت مارتے ہیں ان کی بھی پکڑ ہے ان کے اس عمل کا بھی حساب ہے ہر وقت اللہ کا خوف دل میں رکھو۔

۶؎  یہ ہے اس زبان حق ترجمان کی تاثیر کہ دو لفظوں میں اس کے دل کی دنیا بدل دی رب تعالٰی ہم کو بھی حضور کے فرمان پر عمل اور حضور کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین!

۷؎  یعنی حضور نے اپنے فرمان کی تائید قرآن مجید سے پیش کی۔

۸؎  یہ آیت کریمہ حضور کے فرمان عالی کی حرف بحرف تائید کررہی ہے۔اس آیت میں چند چیزیں فرمائی گئیں: ایک یہ کہ میزان اور اس کے ذریعہ اعمال کا وزن برحق ہے۔دوسرے یہ کہ اس ترازو کے وزن میں کمی بیشی کا شائبہ نہیں،نہ اس میں پاسنگ ہے نہ تولنے والوں میں ڈنڈی مارنے کا اندیشہ۔تیسرے یہ کہ غیرمجرم کو سزا دے دینا یا مجرم کو جرم سے زیادہ سزا دے دینا بھی ظلم ہے اللہ تعالٰی اس ظلم سے پاک ہے۔ظلم کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ کسی کی چیز اس کی بغیر اجازت تصرف میں لانا۔ظلم کے یہ معنی رب تعالٰی کے لیے ممکن نہیں کہ ہر چیز اللہ تعالٰی کی ملک ہے۔چوتھے یہ کہ حساب دانہ دانہ اور قطرہ قطرہ کا لیا جاوے گا یہ ہے قانون۔اگر اللہ تعالٰی کسی کو معافی دے دے حساب نہ لے تو اس کی مہربانی ہے،قانون اور چیز ہے  مہربانی کچھ اور،یہاں قانون کا ذکرہے اس آیت میں ہے "یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ یُرْزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ"لہذا آیتوں میں تعارض نہیں۔

۹؎  آزاد کرنے کی دو وجہیں ہیں: ایک یہ کہ یہ غلام نہ میرے پاس میری ملکیت میں رہیں گے نہ آئندہ مجھ سے ایسے قصور ہوں گے،ان تمام قصوروں کی وجہ ان لوگوں کا میری ملکیت میں رہنا ہے۔دوسرے یہ کہ غلام آزادکرنا بہت سے گناہوں کاکفارہ بھی ہے،میں ان کو آزادکرتا ہوں تاکہ گزشتہ کوتاہیوں کاکفارہ ہوجائے میں اس آزاد کرنے کی وجہ سے ان گناہوں سے دنیا میں ہی پاک ہوجاؤں۔
حدیث نمبر 403
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی بعض نمازوں میں فرماتے سنا الٰہی مجھ سے آسان حساب لے ۱؎ میں نے عرض کیا یا نبی اللہ ! آسان حساب کیا چیز ہے ۲؎ فرمایا یہ ہے کہ اس کے نامہ اعمال پر نظر کرادی جاوے پھر اسے معافی دے دی جاوے۳؎ جس سے حساب میں اس دن جرح کرلی گئی اے عائشہ وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(احمد)
شرح
۱؎ یہ دعا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کررہی ہے"فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیۡرًا"حضرت ام المؤمنین کے سوال نے یہ آیت حل کرادی۔خیال رہے کہ حضور انور کی یہ دعا اُمت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور کا حساب نہ ہوگا ان محبوب عظیم کی شان تو بہت ارفع و اعلٰی ہے،ان کے خاص غلام بے حساب بخشے جائیں گے جیساکہ ہماری پیش کردہ آیت اور دوسری احادیث سے ثابت ہے۔

۲؎  یعنی جس حساب یسیر کی آپ دعا ہم کو سکھا رہے ہیں اور رب تعالٰی اپنے کلام میں خبر دے رہا ہے یہ حساب یسیر ہے کیا چیز۔اپنے فرمان عالی کی شرح اور رب کی آیت کی تفسیر حضور ہی فرما دیں۔

۳؎  یعنی جرم دکھانا اور معافی دے دینا حساب یسیر ہے اور جرم دکھانا اور ان پر جرح فرمانا کہ تم نے یہ گناہ کیوں کیے یہ سخت حساب ہے۔

۴؎ یعنی جرموں پر جرح ہی  اس سے کی جاوے گی جس کو سزا دینا ہوگی جسے بخشنا ہوگا اسے دکھاکر معافی دے دی جائے گی،بعض وہ بندے بھی ہوں گے جن کا حساب مطلقًا نہ ہوگا نہ جرح کا نہ پیشی کا بلاحساب جنت میں بھیج دیئے جائیں گے۔
Flag Counter