۱؎ فك کے معنی ہیں گروی چیز کو چھڑانا،فکاك وہ مال ہے جو دے کر گروی چیز چھڑائی جاوے۔ہرشخص کے لیے ایک ٹھکانہ دوزخ میں ہے دوسرا جنت میں،مؤمن جنت میں اپنا ٹھکانا بھی لے گا اور کسی کافر کا بھی اور کافر دوزخ میں اپنا مقام بھی لے گا اورکسی مؤمن کا بھی۔یہاں یہ ہی مطلب ہے کہ اے مؤمن تو جنت میں اپنا ٹھکانہ بھی لے اور اس یہودی عیسائی کا بھی،یہ تیرے لیے ایسا ہے جیسے گروی چیز کا فکاک۔چونکہ عیسائی یہودی مسلمانوں سے قریب ہوتے ہوئے بھی دور رہے تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر ہوا،یہ مطلب نہیں کہ مسلمان کے گناہوں کے عوض کافر دوزخ میں جاوے گا کہ یہ اسلامی قانون کے خلاف ہے"لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"۔