| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو قریب کرے گاتو اس پر اپنا پردہ رکھے گا ۱؎ اور اسے چھپائے گا۲؎ پھر فرمائے گا کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے، کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے وہ کہے گا ہاں یارب۳؎ حتی کہ اس سے اس کے سارے گناہوں کا اقرار کرالے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ ہلاک ہوا۴؎ رب فرمائے گا کہ میں نے یہ عیوب دنیا میں چھپالیے تھے۵؎ اور آج انہیں بخشتا ہوں۶؎ پھر اس کی نیکیوں کی تحریر اسے دی جاوے گی۷؎لیکن کفارومنافقین انہوں کو مخلوق کے سامنے پکارا جاوے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے رب پر جھوٹ بولے آگاہ رہو! کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۸؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کنف کے کئی معنی ہیں: پردہ،حفاظت،پناہ،نگہبانی،سایہ،پرندے کے بازو جن سے وہ اڑتا ہے،یہاں پردہ کے معنی ہیں۔(اشعہ)چونکہ پرندہ انہیں بازوؤں پروں سے اپنے انڈوں بچوں کو چھپاتا بھی ہے ان کی حفاظت بھی کرتا ہے اس لیے اسے کنف کہتے ہیں۔ ۲؎ یعنی مؤمن کو گناہوں کے حساب کے وقت محشر والوں سے چھپایا جاوے گا کسی کو خبر نہ ہوگی کہ رب نے کیا حساب لیا اور بندے نے کیا حساب دیا۔ ۳؎ اس فرمان عالی سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ مؤمن اپنے گناہوں کا فورًا اقرار کرے گا وہاں بہانے نہ بنائے گا،کفار جھوٹ بولیں گے"وَاللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیۡنَ"۔دوسرے یہ کہ مؤمنوں کی نیکیوں کا حساب علانیہ ہوگا گناہوں کا حساب خفیہ ہوگا بلکہ نیکیوں کی نیکی چہروں پر نمودار ہوگی کہ ان کے منہ چمکتے ہوں گے مگر بدوں کی برائیاں چہروں پر ظاہر نہ ہوں گی ان کے منہ نہ بگڑیں گے،کیوں نہ ہو کہ یہ لوگ پردہ پوش لجپال محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی امت ہیں ان کی پردہ پوشی دنیا میں بھی ہے آخرت میں بھی ہوگی۔ ۴؎ یعنی اب میں پکڑا گیا عذاب میں گرفتار ہوا وہ شخص دل میں یہ سوچتا ہوگا کسی سے کہے گا نہیں اس لیے فی نفسہ فرمایا گیا،رب بھی اس کے عیب چھپائے گا بندہ بھی خاموش رہے گا۔ ۵؎ اس فرمان عالی سے ہی معلوم ہورہا ہے کہ یہاں دنیا کے چھپے گناہوں کو بندہ خود ہی علانیہ کرتا رہا ہو ان کا وہاں بھی اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ غدار کے چوتڑوں پر اس کی غداری کے مطابق جھنڈا لایا جائے گا جس سے وہ سارے محشر میں مشہور ہوگا،وہ غداری بھی علانیہ تھی اس لیے اس کی سزا بھی علانیہ ہوئی۔ ۶؎ مؤمن کی بخشش ضرور ہوگی کسی کی اول ہی سے،کسی کی کچھ سزا دے کر،کسی کی شفاعت کے پانی سے گناہ دھو کر،کسی کی بخشش دوزخ کی آگ میں کچھ روز تپا کر۔بہرحال ہر گنہگار کی بخشش یقینی ہے کیوں نہ ہو کہ محبوب کی امت تو ہے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا ؎ واعظ ان کا میں گنہگار وہ میرے شافع اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے ۷؎ یہ تحریر گویا جنت کا پروانہ وہاں کا ویزا ہوگا اس میں اس بندے کی نیکیوں کا ذکر تو ہوگا مگر گناہوں کا تذکرہ نہ ہوگا کہ وہ تو معاف کردیئے گئے۔ ۸؎ یعنی کفارومنافقین کی نیکیوں کا ذکر تک نہ ہوگا کیونکہ وہ سب رد ہوچکیں بغیر ایمان کوئی صدقہ وغیرہ قبول نہیں،نیز وہ لوگ ان نیکیوں کی عوض دنیا میں اللہ کی نعمتیں استعمال کرچکے،ہاں ان کے گناہوں کا اعلان بھی ہوگا اور حساب علانیہ بھی کیونکہ وہ پردہ پوش نبی کے دامن سے دور رہے۔