Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
396 - 4047
حدیث نمبر 396
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کی تھی وہ عرض کریں گے ہاں یارب ۱؎ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم کو تبلیغ کی گئی تھی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا فرمایا جاوے گا اے نوح! تمہارے گواہ کون ہیں۲؎ عرض کریں گے محمد مصطفےٰ اور ان کی اُمت،حضور نے فرمایا کہ پھر تمہیں کہہ دیا جاوے گا تم گواہی دو گے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۳؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت کی کہ اسی طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول تمہارے نگران گواہ ہوں۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ چونکہ نوح علیہ السلام پہلے وہ نبی ہیں جو کفار کی طرف بھیجے گئے اس لیے ابتداء انہیں سے ہوگی۔گزشتہ کافر امتیں اپنے نبیوں کی تبلیغ کا ا نکار کریں گی اس لیے مقدمہ چلے گا اور اس مقدمہ کی نوعیت یہ ہوگی ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تبلیغ کا کوئی کافر انکار نہ کرسکے گا۔

۲؎  یعنی تم تبلیغ کر دینے کے مدعی ہو تمہاری امتیں اس کی منکر اور مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہوتا ہے وہ اگر گواہ قائم نہ کرسکے تو مدعیٰ علیہ قسم کھاکر مقدمہ جیت لیتا ہے۔معلوم ہوا کہ مقدمہ کا فیصلہ اس قانون کے ماتحت ہوتا ہے حاکم کے ذاتی علم پر فیصلہ نہیں ہوتا،دیکھو رب تعالٰی علیم و خبیر ہے مگر تحقیقات ہورہی ہے۔

۳؎  تشہدون میں خطاب صحابہ سے نہیں بلکہ ساری امت رسول اللہ سے ہے اولین و آخرین صالحین اور ہم جیسے گنہگار اور یہ گواہی صرف نوح علیہ السلام کے حق میں نہیں ہوگی بلکہ قریبًا تمام نبیوں کے حق میں ہوگی کیونکہ سب کی کافر امتیں ان حضرات کی تبلیغ کا انکار کریں گی۔یہ امت ان انبیاءکرام کی گواہ ہوں گی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی تصدیق فرمائیں گے کہ واقعی یہ سچ کہہ رہے ہیں،میں نے ان کو ان حضرات انبیاءکرام کی تبلیغ کی خبر دی تھی اور حضور اسی امت کی صفائی بھی یہاں بیان فرمائیں گے کہ الٰہی میری امت گواہی دینے کے قابل ہے۔مدعی کو گواہ بڑا پیارا ہوتا ہے،تمام نبیوں کو یہ امت پیاری ہے۔ہم کو بھی چاہیے کہ مسلمان بن کر رہیں کہ کل قیامت میں ہم نے نبیوں کی گواہی دینی ہے فاسق کی گواہی قبول نہیں ہوتی،رب تعالٰی توفیق دے۔

۴؎  اس آیت کریمہ کی نفیس و لذیذ تحقیق ہماری تفسیرنعیمی میں ملاحظہ کرو اور شان حبیب الرحمن میں دیکھو۔یہاں دو باتیں سمجھ لو کہ اس آیت میں وسط کے معنی بہترین ہے،رب فرماتاہے:"قَالَ اَوْسَطُہُمْ"درمیانی زمانہ والی مراد نہیں کیونکہ یہ امت تو آخری ہے۔دوسرے یہ کہ یہاں"یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"میں شہد بمعنی گواہ نگران ہے اسی لیے یہاں علیکم ارشاد ہوا۔یہاں مرقات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس میدان میں حاضر و ناظر ہیں۔(مرقات)بے خبر نہ گواہ بن سکتا ہے نہ کسی کی صفائی بیان کرسکتا ہے،حضور اپنے ہر امتی کے ہر عمل سے خبردار ہیں اسی لیے آپ ان کی صفائی بیان فرمائیں گے اس لیے وہ انبیاءکرام عرض کریں گے محمد وامتہ۔
Flag Counter