| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے تم میں سے کوئی مگر اس سے اس کا رب کلام کرے گا ۱؎ اس کےاور رب کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا ۲؎ اور نہ پردہ جو اس کے لیے آڑ ہو تو وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر وہ ہی عمل جو آگے بھیجے اور اپنے بائیں دیکھے گا تو نہ دیکھے گا مگر وہ ہی جو آگے بھیجےاور اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا نہ دیکھے گا اپنے سامنے۳؎ تو تم آگ سے بچو اگرچہ کھجور کی قاش سے۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر ایک کو رب کا دیداربھی ہوگا اور ہر ایک رب کا کلام بھی سنے گا مگر صالحین کو رحمت کا دیدار و کلام ہوگا بدکاروں سے غضب و قہر کا۔قرآن مجید میں جو ارشاد باری ہے کہ ہم ان سے کلام نہ کریں گے،ہم ان کو دیکھیں گے نہیں وہاں رحمت و کرم کا دیدار و کلام مراد ہے۔ ۲؎ یعنی ہر چہار طرف اعمال ہوں گے بیچ میں عامل ہوگا اپنے ہرعمل کا نظارہ کرے گا۔ ۳؎ یعنی حساب یہاں ہورہا ہوگا اور دوزخ کی آگ سامنے سے نظر آرہی ہوگی کیسا بھیانک نظارہ ہوگا۔خدا کی پناہ! ۴؎ یعنی دوزخ سے بچنے کا اعلٰی ذریعہ صدقہ و خیرات ہے،صدقہ اگرچہ معمولی ہو اخلاص سے وہ بھی آگ سے بچالے گا،وہاں صدقہ کی مقدار نہیں دیکھی جاتی وہاں صدقہ والے کی نیت پر نظر ہوتی ہے،کھجور کی قاش کی ہی خیرات کردو شاید وہ ہی دوزخ سے بچالے یا یہ مطلب ہے کہ کسی کا معمولی حق بھی نہ مارو کہ وہ بھی دوزخ میں بھیج دے گا،کسی کی کھجور کی قاش اس کی بغیر اجازت نہ لو۔(اشعۃ اللمعات)