۱؎ حساب کے معنی میں گنتی و شمار،یہاں مکلف جن و انس کے اعمال کی گنتی مراد ہے جو قیامت میں بندے کے سامنے کی جائے گی سزا و جزا کے لیے۔اس حساب کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہے،اس پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ قصاص بنا ہے قص سے بمعنی برابری،یہاں مراد ہے اعمال کا بدلہ جو اعمال کے برابر ہو حساب سب کا نہ ہوگا مگر قصاص سب سے لیا جاوے گا اسی لیے قیامت میں جانوروں کو بھی اٹھاکر قصاص دلواکر مٹی کردیا جاوے گا۔(اشعہ)
حدیث نمبر 392
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی جس کا قیامت کے دن حساب لیا جاوے گا ۱؎ مگر وہ ہلاک ہوجاوے گا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالٰی یہ نہیں فرماتا کہ اس کا حساب آسان لیا جاوے گا۲؎ فرمایا یہ تو صرف پیشی ہوگی لیکن جس سے حساب میں جرح کرلی گئی۳؎ وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ میزان یعنی اعمال تولنے کی ترازو حق ہے،اس کا ثبوت قرآنی آیات اور احادیث سے ہے،اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔اس کے دو پلڑے ڈنڈی،زبان سب کچھ ہے،دو پلڑوں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا مشرق و مغرب میں فاصلہ ہے۔اعمال نامے یا خود اعمال اس میں وزن کیے جائیں گے۔حضرات انبیاءکرام اور بعض اولیاء کے اعمال کا وزن نہ کیا جائے گا،وہاں وزنی پلڑا اونچا ہوگا ہلکا پلڑا نیچے کیونکہ نور اوپر کو اٹھتا ہے نیچے نہیں جھکتا،وہاں وزن باٹ سے نہ ہوگا بلکہ نیکیوں کا گناہوں سے ہوگا۔ ۲؎ حساب سے مراد ہے جرح والا حساب تو نے کیا کیا اور گناہ کیوں کیے۔ہلاکت سے مراد ہے عذاب میں گرفتاری جس سے کیوں پوچھ لیا وہ گیا۔ ۳؎ یعنی حضور کا یہ فرمان عالی قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق کیونکر ہوا کہ جب حساب آسان ہوگا تو سزا کیسے ہوسکتی ہے۔ ۴؎ یعنی ہمارے فرمان عالی میں حساب سے مراد ہے تحقیق و جرح والا حساب جس میں ہرعمل کی پوچھ گچھ ہو،کوئی گناہ نظر انداز نہ کیا جاوے،پھر وجہ گناہ بھی پوچھی جاوے۔اور قرآن مجید میں حساب سے مراد صرف پیشی کا حساب ہے جس میں بعض موٹے موٹے گناہ پیش ہوں اور اکثر نظر انداز کردیئے جاویں،ان پیش فرمودہ اعمال کو دکھاکر اقرار کرا کر معاف کردیا جاوے وہاں بخشش ہی بخشش ہے۔اعلٰی حضرت نے عرض کیا شعر صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے میرا سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے