روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ سچ کہنے والے سچی خبر دینے والے ۱؎ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ لوگ تین فوجوں میں جمع کیے جائیں گے۲؎ ایک فوج سوار عیش والے لباس پہنے ہوئے۳؎ اور ایک فوج فرشتے ان کے چہروں پر گھسیٹیں گے اور انہیں آگ جمع کرے گی۴؎ اور ایک فوج جو چلیں گے اور دوڑیں گے۵؎ اللہ تعالٰی ان کی سواری پر آفت ڈال دے گا وہ باقی نہ رہے گی حتی کہ ایک شخص جس کے پاس باغ ہوگا وہ ایک قابل سواری اونٹ کے عوض دے گا مگر وہ اس پر قادر نہ ہوگا۶؎ (نسائی)
شرح
۱؎ یعنی حضور انور کی دو صفتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ ہم کو سچی خبریں دیتے ہیں،دوسرے یہ کہ رب تعالٰی انہیں سچی خبریں دیتا ہے سچ سننے والے سچ بولنے والے صلی اللہ علیہ و سلم۔ ۲؎ حشر کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ قریب قیامت عدن سے ایک عالمگیر آگ اٹھے گی جو تمام دنیا کو فلسطین میں پہنچادے گی یہ حشر اول ہے۔دوسرے یہ کہ دوسرا صور پھونکنے پر مردے قبروں سے اٹھ کر فلسطین پہنچیں گے۔تیسرے یہ کہ فیصلہ ہوچکنے پر لوگ اپنے ٹھکانوں کی طرف چلیں گے۔غالب یہ ہے کہ یہاں پہلا حشر مراد ہے جیساکہ آگے والے مضمون سے ظاہر ہے،ممکن ہے کہ دوسرا یا تیسرا حشر مراد ہو۔ ۳؎ یعنی یہ لوگ اطمینان سے اپنی سواریوں پر سوار ہوکر سفرکریں گے اعلٰی لباس پہنے ہوئے۔اگر پہلا حشر مراد ہے تو سواریوں سے مراد ان کی اپنی مملوکہ سواریاں جو اس وقت ان کے قبضے میں ہوں گی اور اگر تیسرا حشر مراد ہے تو قربانی یا اپنے اعمال کی سواریاں مراد ہیں۔اور اگر دوسرا حشر مراد ہے تو سواری پر خاص خاص لوگ ہوں گے باقی لوگ پیدل،یہ سواری ان خاص لوگوں کو رب کی طرف سے مہیا کی جاوے گی۔ ۴؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں آگ سے مراد وہ ہی عالمگیر آگ ہے جو عدن سے اٹھ کر تمام لوگوں کو حشر کے میدان تک پہنچادے گی۔اس صورت میں ملائکہ کے کھینچنے سے مراد ہے ان کا نہایت ذلت کے ساتھ چلنا فرشتے انہیں نظر نہیں آئیں گے مگر کام کریں گے،جیسے آج فرشتے ہمارے ساتھ رہتے اپنا کام کرتے ہیں ہم کو نظر نہیں آتے۔یہ اس صورت میں ہے کہ حشر سے مراد پہلا حشر ہو یعنی زندہ لوگوں کا زمین فلسطین میں پہنچنا جمع ہونا اور اگر دوسرا یا تیسرا حشر مراد ہے تو فرشتوں کا انہیں کھینچنا ظاہر ہے۔اس صورت میں تحشر کا فاعل فرشتے ہیں اور النار کو فتح ہے اصل میں الی النار تھا یعنی فرشتے انہیں دوزخ کی طرف گھسیٹیں گے۔(اشعہ) ۵؎ یعنی یہ پیادہ لوگ اطمینان سے نہیں جائیں گے بلکہ بھاگتے ہوئے جائیں گے۔ ۶؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پہلا حشر مراد ہے یعنی اپنی قبروں سے زمین فلسطین کی طرف جانا اور مطلب یہ ہے کہ اس وقت سواریاں بہت زیادہ ہلاک ہوچکی ہوں گی،جب اس بھاگڑ کا وقت آوے گا تو باغ یا کھیت یا باغ کا مالک چاہے گا کہ کوئی میری یہ زمین لے لے اور مجھے ایک اونٹ قابل سواری دے دے مگر کوئی نہ دے گا کیونکہ اب باغ کھیت بے کار ہوچکے ہوں گے،جب یہاں سے بھاگ جانا ہی ہے تو باغ یا کھیت کا کیا فائدہ۔یہ حدیث علامات قیامت میں آنی چاہیے تھی نہ کہ حشر کے بیان میں مگر صاحب مصابیح کی اتباع میں صاحب مشکوۃ نے یہاں ہی بیان کردی،بعض نے فرمایا کہ اس پوری حدیث میں دوسرے یا تیسرے حشر کا ذکر ہے مگر بعض راویوں نے ویلقی اللہ الافۃ الخ ایک دوسری حدیث کا ٹکڑا اس میں داخل کردیا ہے اس صورت میں مطلب ظاہر ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ قبروں سے محشر کی طرف سب لوگ پیدل جائیں گے مگر حضرات انبیاء اور خاص اولیاء اس وقت بھی سواریوں پر ہوں گے۔(مرقات)پھر محشر سے جنت کی طرف جاتے ہوئے اور پل صراط پر عام متقی مسلمان سواریوں پر ہوں گے اور سواریوں کی رفتار مختلف ہوگی یہ سواریاں قربانیاں اور اعمال کی ہوں گی۔(از مرقات)