۱؎ سن کر یقین کو علم الیقین کہتے ہیں،دیکھ کر یقین عین الیقین کہلاتا ہے،اندر داخل ہوکر آزماکر یقین حق الیقین کہلاتا ہے۔ ابھی ہم لوگوں کو قیامت اور وہاں کے حالات کا یقین ہے مگر علم الیقین،سرکار فرمارہے ہیں کہ اگر تم قیامت کا عین الیقین چاہتے ہو تو یہ سورتیں پڑھو،ان میں قیامت کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جیسے کہ بندہ اسے دیکھ ہی رہا ہے،بعض بیان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے سننے سے خبرگویا سامنے آجاتی ہے۔
۲؎ ان سورتوں میں قیامت کا بیان اس کے حالات ایسے طریقہ سے بیان ہوئے ہیں کہ قیامت گویا سامنے آجاتی ہے،بعض وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کا ذکر ایسے ہی فرماتے تھے کہ قیامت کا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھچ جاتا تھا۔