| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ قیامت کے دن تین طرح جمع کیے جائیں گے ۱؎ ایک قسم پیدل،ایک قسم سوار ۲؎ اور ایک قسم اپنے چہروں پر،عرض کیا گیا یارسول اللہ وہ اپنے چہروں پر کیسے چلیں گے،فرمایا جس نے انہیں ان کے قدموں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ انہیں ان کے چہروں پر چلائے۳؎ آگاہ رہو کہ وہ اپنے چہروں سے ہر ٹیلے اور کانٹے سے بچیں گے۔(ترمذی)
شرح
۱؎ غالبًا یہ تین جماعتیں محشر سے جنت دوزخ جاتے وقت ہوں گی کہ مسلمان گنہگار تو پیدل ہوں گے،متقی حضرات سوار،کفار اوندھے منہ پیٹ کے بل رینگتے ہوئے چلیں گے،قبروں سے محشر کی طرف سب پیدل جائیں گے جیساکہ پچھلی حدیث میں گزرا۔ممکن ہے کہ قبروں سے محشر ہی کی طرف ان مختلف طریقوں سے لوگ جائیں،دوسرا احتمال اس لیے قوی ہے کہ یہاں محشر فرمایا گیا یعنی جمع کیے جائیں گے یا محشر کی طرف جائیں گے۔ ۲؎ یہ دوسری جماعت اپنی قربانیوں نیک اعمال پر سوار ہوں گے۔خیال رہے کہ مؤمن اپنے اعمال پر سوار ہوں گے اور کفار پر ان کا مال ان کے اعمال سوار ہوں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ"جیسے تندرست آدمی غذا پر سوار ہوتا ہے اور پیٹ کےمریض پر غذا سوار ہوتی ہے،چونکہ پیدل لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگی سواروں کی کم اس لیے پیدل لوگوں کا ذکر پہلے فرمایا،درجہ ان سواروں کا زیادہ ہوگا۔ ۳؎ یعنی یہ بات اللہ کی قدرت سے کوئی بعید نہیں وہ بڑی قدرتوں والا ہے وہ اس دن انہیں سانپ کی طرح چلائے گا یعنی اس طرح چلنے میں اس کا سر آگے ہوگا باقی حصہ پیچھے،اب اگر ٹیلے روڑے وغیرہ کی ٹھوکر کھائے گا تو کانٹا لگے گا تو سر میں۔غرضکہ راستہ کی ہر آفت سر برداشت کرے گا جیسے دنیا میں راستہ کی ہر مصیبت پاؤں برداشت کرتے ہیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر محشر سے دوزخ کی طرف ہے کیونکہ قبروں سے محشر کی طرف جاتے وقت ساری زمین میدہ کی روٹی کی طرح صاف کردی جاوے گی کہ وہاں نہ خار،نہ غار،نہ ٹیلہ،نہ کنکر وغیرہ جیساکہ پہلے احادیث میں گزر گیا۔