۱؎ لہذا ہرشخص کو چاہیے کہ موت سے پہلے زندگی کو،بیماری سے پہلے تندرستی کو،مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانے جتنا موقع ملے کر گزرے ؎
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
اس دنیا کا ایک ہی پھیرا مڑ نہیں آنا دو جی وار جو کرنا ہے کرلے یار ہوجا سمجھدار
۲؎ حتی کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری زندگی سجدہ سجود میں گزار دے وہ یہ کہے گا کہ میری عمر اور زیادہ کیوں نہ ہوئی کہ میں سجدے سجود اور زیادہ کرلیتا اور آج اس سے بھی اونچا درجہ پاتا۔اس فرمان عالی سے بھی حضرات انبیاء کرام علیحدہ ہیں،انہیں وہاں ندامت کیسی وہ تو عظمت کے انتہائی درجہ میں ہوں گے۔
۳؎ اس فرمان میں کفار اور گنہگار سب داخل ہیں۔کفار کو شرمندگی ہوگی کہ ہم مسلمان کیوں نہ بنے،گنہگاروں کو شرمندگی ہوگی ہم نیک کار پرہیزگار کیوں نہ بنے گناہوں سے باز کیوں نہ آئے مگر کفار کو اس وقت کی یہ ندامت کام نہ دے گی۔