Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
388 - 4047
حدیث نمبر 388
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی نہیں جو مرے مگر شرمندہ ہوگا ۱؎ عرض کیا یارسول اللہ اس کی شرمندگی کیا ہوگی،فرمایا اگر نیک کار ہوگا تو شرمندہ ہوگا کہ اس نے زیادہ نیکیاں کیوں نہ کیں۲؎  اور گنہگار ہوا تو شرمندہ ہوگا کہ وہ کیوں نہ باز آیا۳؎ (ترمذی)
شرح
۱؎  لہذا ہرشخص کو چاہیے کہ موت سے پہلے زندگی کو،بیماری سے پہلے تندرستی کو،مشغولیت سے پہلے فراغت کو غنیمت جانے جتنا موقع ملے کر گزرے     ؎

اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے			اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے 

اس دنیا کا ایک ہی پھیرا مڑ نہیں آنا دو جی وار		جو کرنا ہے کرلے یار ہوجا سمجھدار

۲؎  حتی کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری زندگی سجدہ سجود میں گزار دے وہ یہ کہے گا کہ میری عمر اور زیادہ کیوں نہ ہوئی کہ میں سجدے سجود اور زیادہ کرلیتا اور آج اس سے بھی اونچا درجہ پاتا۔اس فرمان عالی سے بھی حضرات انبیاء کرام علیحدہ ہیں،انہیں وہاں ندامت کیسی وہ تو عظمت کے انتہائی درجہ میں ہوں گے۔

۳؎  اس فرمان میں کفار اور گنہگار سب داخل ہیں۔کفار کو شرمندگی ہوگی کہ ہم مسلمان کیوں نہ بنے،گنہگاروں کو شرمندگی ہوگی ہم نیک کار پرہیزگار کیوں نہ بنے گناہوں سے باز کیوں نہ آئے مگر کفار کو اس وقت کی یہ ندامت کام نہ دے گی۔
Flag Counter