۱؎ عظیم سے مراد ہے دنیا میں درجہ کا بڑا،سمین سے مراد ہے جسم کا موٹا تازہ فربہ یعنی وہ دنیا میں سردار مالدار بھی تھا اور تندرست و توانا بھی مگر تھا منافق یا کافر۔
۲؎ یعنی وہ کافر ومنافق اور اس کے اعمال مچھر کے پر برابر بھی وزن نہ دیں گے کیونکہ ان میں ایمان نہیں،وزن ایمان و اخلاص کا ہوتا ہے۔
۳؎ اس آیت کریمہ کے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ وزن بمعنی میزان ہے یعنی ہم قیامت میں کفار کے لیے میزان قائم ہی نہیں کریں گے کیونکہ وہاں وزن باٹ سے نہ ہوگا بلکہ نیکیوں کا بدیوں سے ہوگا،کافر کے پاس نیکیاں ہی نہیں پھر وزن کیسا۔دوسرے یہ کہ وزن بمعنی بوجھ ہے اورمعنی یہ ہیں کہ کفار کی نیکیوں میں ہم وزن نہیں رکھیں گے کہ ان کی نیکیاں صدقات خیرات وغیرہ تولے جائیں گے مگر بہت ہی ہلکے ہوں گے۔یہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ قرآن کریم دوسری جگہ فرماتا ہے:"وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوٰزِیۡنُہٗ فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ"جس سے معلوم ہوا کہ کفار کی نیکیاں تولی جائیں گی مگر نہ اُٹھیں گی۔