Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
385 - 4047
حدیث نمبر 385
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہمارا رب اپنی پنڈلی قدرت کھولے گا ۱؎  اور اسے ہر مؤمن مرد و عورت سجدہ کریں گے۲؎  وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھلاوے یا شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنے لگیں گے تو ان کی پیٹھ ایک تختہ بن جاوے گی۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  احتیاط یہ ہے کہ اس حدیث کو متشابہات میں سے مانو اس پر ایمان لاؤ مگر اس کا مطلب رب کے حوالہ کرو کیونکہ رب تعالٰی پنڈلی وغیرہ اعضاء سے پاک ہے۔بعض نے فرمایا کہ اپنے نور کی تجلی فرمائے گا،تجلی نور کو ساق سے تعبیر فرمایا گیا،قرآن کریم میں ہے"یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ"وہاں پنڈلی سے مراد انسانوں کی پنڈلی ہوسکتی ہے کہ ان پر ایسی مصیبت طاری ہوگی کہ ان کی پنڈلی کھولی جاوے گی مگر یہاں یہ مطلب نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں ساقہ فرمایا گیا کہ رب اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا۔

۲؎  یہ اس وقت ہوگا جب کھلے کافر چھانٹ کر الگ کیے جاچکے ہوں گے یہاں صرف مؤمنین مخلصین اور منافقین رہ جائیں گے،یہ سجدہ مخلصین اور منافقین میں چھانٹ کے لیے ہوگا۔

۳؎  یعنی مخلصین تو درست سجدے کرلیں گے مگر ریاکار اور منافقین سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر نہ کرسکیں گے،ان کی پیٹھ تختہ کی طرح اکڑ جاوے گی جس سے وہ بجائے سجدہ کے اوندھے گر جاویں گے۔یہ سجدہ مخلص و منافق میں چھانٹ کے لیے ہوگا مگر ان مخلصین میں متقی و گنہگار شامل ہوں گے،یہ سب اپنے رب کو سجدہ کریں گے اور صحیح کریں گے۔وہ سجدہ بڑے مزے کا ہوگا یار سامنے ہے گنہگار سجدہ میں گر رہا ہے،اللہ وہ سجدہ ہمیں بھی نصیب کرے۔شعر

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں 	 کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبیں نیاز میں
Flag Counter