Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
384 - 4047
حدیث نمبر 384
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے گا اے آدم وہ عرض کریں گے حاضر ہوں خدمت گزار ہوں اور ساری بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ۱؎  فرمائے گا آگ کا حصہ نکالو۲؎ عرض کریں گے آگ کا حصہ کیا ہے فرمائے گا ہر ہزار سے نو سو ننانوے۳؎  تو اس وقت بچے بڈھے ہوجائیں گے اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی۴؎  اور تم لوگوں کو نشہ میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے۵؎ لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ وہ ایک ہم میں سے کون ہوگا۶؎ فرمایا خوش ہوجاؤ کہ تم میں سے ایک شخص اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۷؎ پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ جنتیوں کے چوتھائی ہوگے تو ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم جنتیوں کے تہائی ہوؤگے ہم نے تکبیر کہی پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں میں آدھے ہو گے۸؎ ہم نے تکبیر کہی۹؎ پھر فرمایا تم لوگوں میں نہیں مگر ایسے جیسے سفید بیل کی کھال میں ایک کالا بال یا جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۱۰؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  یہ فرمان عالی قیامت کے دن ہوگا حساب سے پہلے،شاہی آستانہ کا ادب یہ ہے کہ نداء کے جواب میں صرف بلٰی یا لبیك نہ کہا جاوے بلکہ اپنی وفاداری،سلطان کی اور دربار کی خدمت گزاری کا بھی ذکر کیا جائے،بادشاہ کی تعریف بھی کی جاوے۔

۲؎  یعنی اپنی اولاد میں سے کفار کو جو آگ کا حصہ ہیں مؤمنین سے الگ کرو۔معلوم ہوا کہ یہ چھانٹ حضرت آدم علیہ السلام سے کرائی جاوے گی۔

۳؎  یہاں فی ہزار ایک جنتی فرمایا گیا باقی دوزخی،حضرت ابوہریرہ کی روایت فی سینکڑہ ایک جنتی تھا باقی دوزخی،اس فرق کی چند وجہ ہوسکتی ہیں: یا تووہاں یاجوج ماجوج کے سواء کے باقی انسانوں کا ذکر تھا اور یہاں مع یاجوج ماجوج کا ذکر ہے،یا وہاں صرف کفار کا ذکر تھا جو ہمیشہ کے دوزخی ہیں اور یہاں کفار اور مؤمن گنہگار سب شامل ہیں۔مؤمن گنہگار عارضی دوزخی ہیں یا وہاں صرف انسان کفار کا ذکر تھا یہاں جن و انس سارے کافروں کا ذکر ہے اور ممکن ہے کہ دونوں عدد کثرت و زیادتی بیان کرنے کے ہوں خاص تعداد مراد نہ ہو جیسے ہم کہتے ہیں جلسہ میں بیسیوں آدمی تھے۔

۴؎  یعنی اگر اس دن نومولود بچے اور عورتوں کے حمل ہوتے تو اس صدمہ سے بچے تو بڈھے ہوجاتے اور عورتیں حمل گرادیتیں اس فرمان کی دہشت سے۔

۵؎  یہاں حقیقت مراد ہے یعنی یہ سن کر لوگوں کے ہوش اڑ جاویں گے جیسے انہوں نے نشہ پیا ہے مگر یہ نشہ نہ ہوگا ہیبت الٰہی ہوگی۔اس سے بھی حضرات انبیاء کرام اور خاص اولیاء اللہ علیحدہ ہیں اور تمہیں اس دن نہ گھبراہٹ ہوگی نہ خوف،رب فرماتاہے:"لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"اور فرماتاہے:"لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"۔

۶؎  حضرات سامعین پر خوفِ الٰہی ایسا طاری ہوا کہ وہ سمجھے ہم مؤمنین یا ہم صحابہ میں سے ایک فی ہزار جنتی ہوگا تب یہ عرض کی۔

۷؎  یعنی یہ تعداد صرف تم میں سے پوری نہ کی جاوے گی بلکہ اولین و آخرین جس میں قوم یاجوج اور قوم ماجوج بھی داخل ہے انہیں ملا کر پوری کی جاوے گی،اس لحاظ سے واقعی مؤمن ایک ہے اور کافر نوسو ننانوے تم کو اس کا کیا خوف۔

۸؎  یعنی اولًا تم لوگ تمام اولین و آخرین جنتیوں میں چہارم ہوگے کہ تین حصوں میں سارے جنتی انسان از آدم تا عیسیٰ علیہ السلام اور چوتھائی تم،پھر تم نصف تہائی ہوجاؤ گے پھر آدھے۔دوسری روایات میں ہے کہ دو تہائی جنتی حضور کی امت ایک تہائی میں سارے لوگ مگر اس طرح کہ مسلمان جنت میں آگے پیچھے پہنچیں گے،جب سارے مسلمان وہاں داخل ہوجائیں گے تب حضور کی امت ۳/۲ اور باقی امتیں ۳ /۱۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوزخی انسان زیادہ ہیں جنتی تھوڑے"وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"لیکن جنت میں فرشتے اور حوروغلمان بھی ہوں گے،ان کا مجموعہ دوزخی جن وانسانوں سے بڑھ جاوے گا غلبت رحمتی علی غضبی اس طرح ہوگا۔

۹؎  اس سے معلوم ہوا کہ وعظ و تقریریں،اچھی خوشخبری،اعلٰی نکتہ سن کر نعرۂ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے جو آج کل بھی رائج ہے۔

۱۰؎ یعنی سارے مؤمنین یا میری امت کے سارے مؤمنین تمام کفار جن و انس کے مقابلہ ایسی نامعلوم نسبت رکھتے ہیں جیسے کالے بیل کی کھال میں ایک سفید بال۔خیال رہے کہ یہ نسبت سارے کفار کے لحاظ سے ہے مجموعہ کفار سے مسلمان واقعی تھوڑے ہیں ورنہ آج دنیا میں مسلمانوں کی مردم شماری ہر کافر قوم سے زیادہ ہے،آج مسلمان دنیا میں قریبًا ایک ارب ہیں ان کے بعد عیسائیوں کی تعداد ہے،پھر دوسری قوم کی لیکن اگر سب کافر ملائے جاویں اور قوم یا جوج ماجوج بھی ملالی جاوے تو اس مجموعہ میں مسلمان کالی گائے کی کھال میں ایک سفید بال ہی ہیں۔
Flag Counter