Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
383 - 4047
حدیث نمبر 383
روایت ہے حضرت مقداد سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق سے قریب کردیا جاوے گا حتی کہ ان سے میل کی مقدار رہ جاوے گا ۱؎ تو لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینہ میں ہوں گے۲؎ بعض وہ ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا،بعض وہ جن کے گھٹنوں تک ہوگا اور بعض وہ جن کی کمر تک ہوگا اور ان میں بعض وہ ہوں گے کہ پسینہ ان کی لگام بن جاوے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ شریف سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎  ظاہر یہ ہے کہ میل سے مراد راستہ کا میل ہے کوس کا تہائی حصہ،آج کل ہمارے ہاں آٹھ فرلانگ کا میل ہوتا ہے،عرب میں پانچ فرلانگ کا جسے کیلو کہتے ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں میل سے مراد سرمہ کی سلائی ہے بہرحال ہوگا نہایت ہی قریب۔

۲؎ اعمال سے مراد گناہ ہیں یعنی بداعمال خواہ کفر ہو یا دوسرے گناہ اس پسینہ کی تحقیق ابھی ابھی ہوچکی۔

۳؎  اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اس پسینہ میں ڈوبا نہ ہوگا،بعض قریب ڈوبنے کے ہوں گے،اس اختلاف حال کی وجہ ابھی کچھ پہلے عرض کردی گئی۔خیال رہے کہ فم منہ کو کہتے ہیں اور وجہ چہرہ کو،فی بنا ہے فم سے بمعنی منہ۔
Flag Counter