Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
382 - 4047
حدیث نمبر 382
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر گز چلا جاوے گا اور ان کی لگام بن جاوے گا حتی کہ ان کے کانوں تک پہنچ جاوے گا ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  یہ حال ان لوگوں کا ہوگا جنہیں عرش اعظم کا سایہ میسر نہ ہوگا،سایہ والے لوگ بڑے آرام سے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوں گے،وہاں پسینہ کیسا عادل بادشاہ،جوان صالح،اکیلے میں اپنے گناہ یاد کرکے رونے والا عرش کے سایہ میں ہوں گے،پھر اولیاء انبیاء کا کیا پوچھنا دنیا ان کے سایہ میں ہوگی وہ خود سایہ ہوں گے۔شعر

امی و دقیقہ داں عالم 			بے سایہ و سائبان عالم

یہ پسینہ سورج اور دوزخ کی گرمی،انتہائی پریشانی وفکر اور ندامت کی وجہ سے ہوگا۔(مرقات)اور مطابق اپنے اعمال کے ہوگا زیادہ گناہ کیے تو پسینہ زیادہ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر ایک کا پسینہ الگ ہوگا دوسروں کے پسینہ سے مل کر دریا نہ بنے گا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مچھلی سے پانی میں طاق بن گیا،بعض نے فرمایا کہ تمام پسینوں کا دریا بن جاوے گا مگر یہ دریا کسی کے ٹخنوں تک،کسی کے منہ تک جیسے ایک ہی قبر میں مؤمن مردہ جنت میں ہے،کافر مردہ دوزخ میں،ایک چار پائی پر دو آدمی سورہے ہیں ایک اچھی خواب سے خوش ہے دوسرا بری خواب سے پریشان۔(مرقات)
Flag Counter