Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
378 - 4047
حدیث نمبر 378
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ تم حشر کیے جاؤ گے ننگے پاؤں، ننگے بدن بے ختنہ ۱؎  پھر آپ نے تلاوت فرمائی کہ جیسے ہم نے اولاد پیدائش کی ابتداء کی تھی ویسے ہی لوٹائیں گے ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے ہم کرنے والے ہیں۲؎  اور پہلے جسے لباس پہنایا جاوے گا قیامت کے دن وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۳؎  اور میرے ساتھ والوں میں سے کچھ لوگ بائیں طرف پکڑ لیے جائیں گے۴؎ تو میں فرماؤں گا کہ میرے ساتھ والے ہیں میرے ساتھ والے۵؎ تو کہیں گے کہ یہ لوگ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے اپنی ایڑیوں پر لوٹے رہے۶؎ تو جو اس نیک بندے نے کہا ہے وہ ہی میں کہوں گا کہ میں ان کا ذمہ دار نگران تھا جب میں ان میں رہا عزیز الحکیم تک۷؎ (مسلم، بخاری)
شرح
۱؎  اس فرمان عالی میں انکم فرماکر بتایا گیا کہ تم عوام لوگ اس حالت میں اٹھو گے ننگے بدن،ننگے پاؤں،بے ختنہ مگر تمام انبیاءکرام اپنے کفنوں میں اٹھیں گے حتی کہ بعض اولیاء اللہ بھی کفن پہنے اٹھیں گے تاکہ ان کا ستر کسی اور پر ظاہر نہ ہو۔جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میں قبر انور سے اُٹھوں گا اور فورًا مجھے جنتی جوڑا پہنا دیا جاوے گا لہذا یہاں اس فرمان عالی سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بلکہ تمام انبیاء،بعض اولیاء مستثنٰی ہیں۔(مرقات،اشعہ)اس لیے یہاں انتم فرمایا نحن نہیں فرمایا یہ خوب خیال رہے۔

۲؎  یعنی جیسے تم اپنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ایسے ہی اپنی قبروں کے پیٹ سے اٹھو گے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ننگے نہیں پیدا ہوئے تھے حریر میں لپٹے ہوئے پیدا ہوئے۔شعر

آنکھوں میں سرمہ بالوں میں شانہ دیا ہوا		لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا

حضور فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکروعمر کے ساتھ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھیں گے،پھر جنت البقیع والوں کا انتظار فرمائیں گے،پھر مکہ معظمہ والے جنت معلی کے مردوں کا،پھر محشر کی طرف اس برات کے ساتھ جائیں گے ایسی حالت میں حضور بغیر لباس کیسے ہوسکتے ہیں۔(مرقات)

۳؎  یعنی کفن اتارکر جنتی جوڑا پہلے حضرت خلیل اللہ کو پہنایا جاوے۔یا تو اس حکم سے حضور علیحدہ ہیں متکلم مستثنٰی ہوتا ہے یا یہ بدلہ ہے اس کا کہ نمرودی آگ میں جاتے وقت آپ کے کپڑے اتار لیے گئے تھے یہ خصوصی فضیلت ہے۔(مرقات)نیز آپ ننگوں کو کپڑے پہناتے تھے،نیز آپ حضور انور کے جد امجد ہیں ان وجوہ سے آپ کا یہ اکرام فرمایا گیا۔

۴؎  اصیحاب تصغیر ہے اصحاب کی،یہاں شرعی صحابہ مراد نہیں کہ شرعًا صحابی وہ ہیں جنہیں بحالت ایمان حضور انور کی صحبت نصیب ہو اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہو بلکہ لغوی اصحاب مراد ہیں یعنی میرے پاس بیٹھنے والے لوگ۔یہ وہ لوگ ہیں جو حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے جیسے منکرین زکوۃ یا مسیلمہ کذاب پر ایمان لے آنے والے بن گئے تھے،خوارج کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت علی و فاطمہ ہیں،روافض کہتے ہیں کہ ان سے مراد سواء تین چار شخصوں کے باقی تمام صحابہ ہیں جیسے ابوبکر صدیق وغیرہم،دونوں فرقے جھوٹے ہیں اگر حضرت علی یا صدیق اکبر مرتد ہیں تو دنیا میں مسلمان کوئی نہیں رہ سکتا کہ ہم تک حضور کا دین پہنچانے والے تو وہ ہی حضرات ہیں۔

۵؎  یعنی یہ لوگ میرے ساتھی ہیں انہیں میرے پاس آنے دو،حضور انور کا یہ فرمان عالی بطور عتاب ہوگا جیسے رب تعالٰی دوزخی کافر سے فرمائے گا:"ذُقْ  اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْکَرِیۡمُ"اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور کو اپنے پرائے کی پہچان نہ ہوگی،یہاں تو بتارہے ہیں وہاں کیسے بھول جائیں گے،نیز قیامت میں کافر و مؤمن چہروں اور دوسری علامات سے پہچانے جائیں گے،رب فرماتاہے:"یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوۡنَ بِسِیۡمٰہُمْ"نیز دوسری روایت میں ہے اعرفہم ویعرفوننی میں انہیں پہچانتا ہوں وہ مجھے جانتے ہیں لہذا اس فرمان عالی سے وہابی حضور کی بے علمی پر دلیل نہیں پکڑ سکتے۔

۶؎  یعنی یہ لوگ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد یا منکر زکوۃ ہوکر یا مسیلمہ کذاب کے امتی بن کر مرتد ہوگئے تھے۔ فرشتوں کا یہ عرض کرنا ان مردودوں کو رسوا کرنے کے لیے ہوگا نہ کہ حضور انور کو مطلع کرنے کے لیے،حضور کو رب نے ہر غیب پر مطلع فرمادیا۔شعر

خدا مطلع ساخت برجملہ غیب 			علی کل شیئ خبیر آمدی

جو کہتے ہیں کہ یہ لوگ حضرت صدیق و فاروق ہوں گے وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر صدیق وفاروق مرتد ہیں تو ان کے ہاتھ پر بیعت کر لینے والے اہلِ بیت اطہار پر کیا فتویٰ ہوگا،امام حسین نے یزید فاسق کی بیعت نہ کی تو ان حضرات نے حضرت صدیق اکبر و فاروق کی کیوں کرلی۔

۷؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان عالی اپنی بیزاری ظاہر فرمانے کے لیے ہے یعنی جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا،انہیں کفر سے بچاتا رہا،میری وفات کے بعد میری نگرانی ختم ہوگئی پھر تو جانے وہ جانے۔یہ عرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائی کفار کے متعلق کریں گے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسی طرح عرض کریں گے۔
Flag Counter