| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ تین طریقوں سے جمع کیے جائیں گے ۱؎ رغبت کرتے خوف کرتے۲؎ اور دو ایک اونٹ پر۳؎ اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر۴؎ باقیوں کو آگ جمع کرے گی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جہاں وہ لوگ قیلولہ کریں گے اور رات گزاریں گے اور ان کی ساتھ صبح کرے گی جہاں صبح کریں گے اور ان کے ساتھ شام کریں گے۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مردے زندہ ہوکر اپنی قبروں سے میدان قیامت کی طرف تین طرح جائیں گے،اس دراز راستہ کو تین طریقہ سے طے کریں گے۔ان طریقوں کا ذکر اگلی حدیثوں میں آرہا ہے کہ بعض تو سواریوں پر،بعض پیدل اور بعض منہ کے بل گھسٹتے۔ ۲؎ یہ ان طریقوں کا بیان نہیں بلکہ اس کے علاوہ دوسرے حالات کا بیان ہے کہ حضرات اولیاء اللہ تو خوشی خوشی راغب ہو کر جائیں گے جن کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ" اور فرماتاہے:"لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ"اور فرمایا:"یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا"۔ان حضرات پر قیامت کی گھبراہٹ بالکل طاری نہ ہوگی۔رہے خائفین یہ وہ لوگ ہیں جو گنہگار ہیں ان کی بخشش کی امید ہے۔خوف سے مراد پکڑے جانے کا خوف ہے،پہلے لوگ طیارین ہیں دوسرے سیارین۔ ۳؎ واثنان کا واؤ حالیہ ہے یہ راغبین راھبین کی ضمیر سے حال ہے۔ ۴؎ یہ اونٹ قربانی کے جانور نہ ہوں گے بلکہ قدرتی ہوں گے اور ان میں سے ایک ایک پر چند کا سوار ہونا یا تو اجتماعًا ہوگا کہ سب یک دم اس پر سوار ہوں گے یا باری باری والے کہ ایک سوار ہوگا باقی پیدل چلیں گے پھر دوسرے کی باری،جتنا درجہ زیادہ اتنی ہی شرکت تھوڑی ہوگی۔ ۵؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ اس حشر سے مراد وہ اجتماع ہے جو قیامت سے پہلے ہوگا کہ لوگ اپنی زندگی میں زمین شام میں پہنچ جائیں گے اور اس طرح پہنچیں گے مگر ترجیح اس کو ہے کہ یہ حشر قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا جو کہ علاوہ شام کے اور زمین میں دفن ہوئے ان کو میدان حشر میں ان طریقوں سے پہنچایا جائے گا۔(اشعہ،مرقات)خیال رہے کہ یہاں محشر تک جانے کا ذکر ہے اور اگلی حدیث میں قبروں سے اٹھنے کا تذکرہ لہذا مطلب واضح ہے اس کے متعلق اور بہت قول ہیں۔اس جگہ صبح شام سے مراد حقیقی صبح و شام نہیں بلکہ اتنا وقت مراد ہے کیونکہ اس دن رات و دن صبح شام نہ ہوں گے،یہاں مرقات نے بہت تحقیق کی ہے۔