| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں،ننگے بدن،بے ختنہ جمع کیے جائیں گے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ مرد و عورتیں سارے بعض بعض کو دیکھیں گے۲؎ تو فرمایا اے عائشہ وہ حال اس سے سخت تر ہوگا کہ بعض بعض کی طرف نظر بھی کریں۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ناس فرماکر بتایا کہ یہ حالت عام لوگوں کی ہوگی حضرات انبیاء و خاص اولیاء کی یہ حالت نہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا،نیز جنات جانوروں کے جمع ہونے کی اور نوعیت ہوگی وہ بھی الناس سے خارج ہیں۔ ۲؎ یعنی رب تعالٰی پاکباز نیک بی بیوں کی بے پردگی کیوں فرمائے گا،وہ مردوں کے سامنے صرف بے پردہ ہی نہیں بلکہ ننگی ہوں،بڑا پیارا سوال ہے۔خیال رہے کہ ازواج پاک اور فاطمہ زہرہ باپردہ اٹھیں گی جیساکہ عرض کیا گیا کہ وہ خاص اولیاء اللہ میں داخل ہیں۔ ۳؎ یعنی اس دن جلال و ہیبت حجاب بن جاوے گی کوئی کسی کو نہ دیکھے گا،سب کی نظر آسمان پر ہوگی قدم زمین پر، آج بھی بڑی آفت میں سامنے والا آدمی پاس کی چیز نظر نہیں آتی۔