Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
376 - 4047
حدیث نمبر 376
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن زمین ایک روٹی ہوجاوے گی جسے اللہ تعالٰی اپنے دست قدرت سے تیارکرے گا ۱؎  جیسے تم میں سے کوئی سفر میں اپنی روٹی تیارکرتا ہے جنت والوں کی مہمانی کے لیے۲؎ پھر ایک یہودی شخص حاضر ہوا بولا اے ابوالقاسم اللہ آپ پر برکت نازل کرے کیا میں آپ کو جنتیوں کی مہمانی جو قیامت کے دن ہوگی اس کے متعلق خبر نہ دوں۳؎  فرمایا ہاں،بولا زمین ایک روٹی ہوجاوے گی جیسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہماری طرف دیکھا پھر تبسم فرمایا حتی کہ آپ کی کیلیں مبارک نمودار ہوگئیں۴؎ پھر بولا کیا میں آپ کو ان کے سالن کی خبر نہ دوں بالام اور مچھلی۵؎ صحابہ نے کہا وہ کیا چیز ہے بولا بیل اور مچھلی کہ ان دونوں کی کلیجی کے ٹکڑے سے ستر ہزار کھائیں گے۶؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ساری زمین کو رب تعالٰی صرف کلمہ کن سے بغیر واسطہ فرشتہ روٹی بنادے گا،چونکہ روٹی ہاتھ سے پکتی ہے اس لیے یہاں یہ ارشاد ہوا مراد دست قدرت ہے۔ظاہر یہ ہے کہ حدیث شریف اپنے ظاہری معنی پر ہے واقعی یہ زمین روٹی میں تبدیل ہوجائے گی جو جنتیوں کو اولًا ہی کھلا دی جائے گی۔زمین سے یہ پھل پھول،میوہ پیدا ہوتے ہیں اس لیے اس روٹی میں یہ سارے مزے ہوں گے اگرچہ کڑوی زہریلی خاردار چیزیں بھی زمین سے ہی نکلتی ہیں مگر ان کی آمیزش اس روٹی میں بالکل نہ ہوگی۔کریلے کڑواہٹ نکال کر پکائے جاتے ہیں،کوارگندل کا جب حلوہ بناتے ہیں تو اس کی کڑواہٹ دور کردیتے ہیں۔

۲؎  یعنی جنتیوں کو پہلے یہ غذا دی جاوے گی پھر وہ غذا سے مستغنی ہوں گے پھل فروٹ لذت کے لیے کھایا کریں گے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ کلام شریف بطور تشبیہ ہے کہ روٹی قدرتی ہوگی مگر زمین کی سی ہوگی،ان کی دلیل وہ حدیث ہے کہ قیامت کے بعد اس زمین اور سمندر کو آگ سے پُرکردیا جاوے گا اور دوزخ کے ساتھ اسے ملادیا جائے گا۔

۳؎  یعنی ہماری توریت شریف میں اہلِ جنت کی پہلی غذا کے متعلق جو لکھا ہے کیا میں حضور کی خدمت میں عرض کروں۔معلوم ہوا کہ وہ یہودی ادب والا تھا کہ حضور سے اجازت لے کر کچھ سنا رہا ہے،بزرگوں سے اجازت لے کر عرض کرنا ہی ادب کا تقاضا ہے۔

۴؎  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ تبسم خوشی کے طور پر تھا کہ حضور کے فرمان عالی کی تصدیق ایک یہودی عالم نے کردی۔معلوم ہوا کہ توریت و انجیل کی وہ باتیں جو اسلام کے موافق ہوں قبول کی جاسکتی ہیں اسلام کی تائید کے لیے نہ کہ محض ان کی تصدیق کے لیے۔

۵؎  بالام عبرانی زبان کا لفظ ہے،بمعنی بیل یا گائے،چونکہ حضرات صحابہ اسے سمجھے نہیں اس لیے اس نے ترجمہ کیا۔

۶؎  ستر ہزار سے مراد بے حساب بے اندازہ لوگ ہیں یا ستر ہزار وہ حضرات ہیں جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے سب سے پہلے جائیں گے انہیں یہ غذا دی جائے گی۔(مرقات)شاید یہ بیل وہ ہوگا جس پر زمین قائم ہے اور مچھلی وہ جس پر بیل قائم ہے۔زائدۃ کہہ کر یہ بتایا کہ یہ ستر ہزار جنتی اس بیل کی پوری کلیجی نہ کھائیں گے بلکہ کلیجی کا اوپر والا حصہ اسی سے سب سیرہوجائیں گے۔خیال رہے کہ یہ غذا جنت میں آگ سے نہ پکے گی کہ وہاں آگ نہیں بلکہ قدرتی طور پر پکی ہوئی ہوگی جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانی دسترخوان میں بھونی ہوئی مچھلی اور روٹی آسمان سے اتری تھی۔یہ بھی خیال رہے کہ اہلِ جنت اس کے بعد پھر کبھی غذا نہ کھائیں گے آئندہ پھل ہی کھایا کریں گے صرف لذت کے لیے۔
Flag Counter