Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
375 - 4047
باب الحشر

حشر کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ قیامت کے بہت نام ہیں جن میں سے ایک نام حشر بھی ہے جس کے معنی ہیں جمع کرنا یا جمع ہونا اسے حشر یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن سارے اولین و آخرین ایک وقت میں ایک جگہ جمع ہوجائیں گے بخلاف دنیا کے،یہاں مختلف جگہ میں لوگ پیدا ہوتے مرتے رہتے ہیں یا اس لیے کہتے ہیں کہ اسی دن ہرشخص اپنے اعمال اپنے احباب کے ساتھ جمع ہوگا،مؤمن مؤمنین کے ساتھ،کافر کفار کے ساتھ المرء مع من احب اس دن محبت جامع ہوگی۔ قیامت تک کے حضور کے شیدائی ان شاءاللہ حضور کے ساتھ ہوں گے۔اس کا مقابل ہے نشر بمعنی بکھیرنا یا جدا ہونا،جداکرنا،چونکہ قیامت میں بعض وقت لوگ جمع ہوں گے،بعض وقت ایک دوسرے سے الگ بلکہ بیزار اس لیے اسے یوم حشرونشر کہتے ہیں"یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیۡہِ  وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ"اس لیے اسے یوم الفصل بھی کہتے ہیں کہ اس دن مؤمن و کافر الگ الگ کردیئے جاویں گے۔
حدیث نمبر 375
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ قیامت کے دن اس سفیدہ زمین میں جمع کیے جائیں گے۱؎  جو میدہ کی روٹی کی طرح ہے۲؎  جس میں کسی کا نشان نہ ہوگا۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  بیضاء بمعنی سفید،عفراء بمعنی مائل بہ سرخی یعنی زمین ہوگی تو سفید مگر خالص تیز سفید نہ ہوگی بلکہ سفیدی میں سرخی کی جھلک ہوگی۔

۲؎  قرصۃ بمعنی ٹکیہ یا روٹی،یہ قرص سے بنا ہے،شیخ سعدی نے گلستان میں فرمایا شعر

قرض خورشید در سیاہی شد			یونس اندر دہان ماہی شد

نقی بمعنی میدہ،قرصۃ میں ت وحدت کی ہے یعنی ایک روٹی۔

۳؎  یعنی اس دن ساری روئے زمین پر نہ کسی کا مکان ہوگا،نہ باغ،نہ کھیت،نہ غار،نہ پہاڑ،صاف شفاف میدان ہوگا جس میں نہ کسی کو ٹھوکر لگے نہ کوئی غار میں گرے۔سب کی نظریں آسمان کی طرف ہوں گی اور زمین طے کرتے ہوں گے،اس طرح سب زمین شام تک پہنچیں گے جہاں قیامت کا اجتماع ہوگا۔
Flag Counter