| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ خدا تعالٰی مخلوق کو کیسے لوٹائے گا اور اس کی خلقت میں اس کی نشانی کیا ہے ۲؎ فرمایا کیا تم اپنی قوم کے جنگل میں خشک سالی میں نہیں گزرے تھے وہاں اس وقت نہ گزرے جب سبزہ سے لہلہا رہی ہیں میں نے عرض کیا ہاں فرمایا تو یہ اللہ کی نشانی ہے اس کی مخلوق ہیں اسی طرح اللہ مردے زندہ کردے گا ان دونوں کو رزین نے روایت کیا۳؎
شرح
۱؎ آپ کا نام لقیط ابن عامر ہے ،طائف والوں سے ہیں،مؤلف نے آپ کا ذکر اسماء الرجال میں نہیں کیا۔(اشعہ،مرقات) ۲؎ یعنی دنیا آخرت کا نمونہ ہے آخرت میں مرے ہوئے لوگ زندہ کیے جاویں گے اس کی مثال دنیا میں کیا ہے جسے ہم اس کی دلیل بناسکیں۔ ۳؎ سبحان اللہ!کیسی پاکیزہ دلیل ہے کہ خشک زمین میں بارش سے تر ہو کر سوکھے سبزہ کے ریزہ دوبارہ ہرے ہوجاتے ہیں ایسے ہی صور کی آواز سے مردوں میں جان بھی پڑ جاوے گی،قرآن مجید میں اسی مثال سے قیامت میں اٹھنے کو سمجھایا گیا ہے، دنیا کی چیزیں عالم غیب کی دلیلیں ہیں ان میں غور کرنا ضروری ہے۔