Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
370 - 4047
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 370
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں کیسے خوشی کروں حالانکہ صور والا فرشتہ ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور اپنے کان لگائے ہوئے ہے  ۱؎  اور اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب پھونکنے کا حکم دیا جاوے ۲؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۳؎ فرمایا کہو ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے ۴؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت اسرافیل منہ میں صور لیے عرش اعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ملے اور میں بلا تاخیر صور پھونک دوں،جب میری آنکھیں یہ نظارہ کر رہی ہیں تو میرے دل کو چین و خوشی کیسے ہو، ادھر خوف لگا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں ۔شعر

اے  فروغت  صبح  آثار  و دھور			چشم  تو  بینندہ  ما فی  الصدور

خیال رہے کہ یہ فرمان عالی اظہار ِ خوف و خشیت کے لیے ہے اس لیے نہیں کہ ابھی صور پھونک جانے قیامت آجانے کا اندیشہ ہے قیامت تو اپنے وقت پرآوے گی اس سے پہلے بہت سی علامات ہوں گی خروج دجال،نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے آندھی بادل آنے پر سرکار پر خوف کے آثار ظاہر ہوجاتے تھے ہیبت الٰہی کی وجہ سے اس لیے نہیں کہ عذاب الٰہی آنے کا اندیشہ ہے،رب تعالٰی وعدہ فرماچکا ہے کہ "وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"۔

۲؎  کان لگانا،سرجھکانا تیار رہنے کی علامت ہے۔خیال رہے کہ یہ تیاری قیامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے ہے اور حضرت اسرافیل علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بندہ وقت سے پہلے کام کے لیے تیار رہتا ہے۔

۳؎  یعنی ہم قیامت قائم ہونے پر یا مصیبتوں پر یا ہر وقت یا اب ہمارے دلوں پر بہت گھبراہٹ ہے کیا کریں کون سا عمل کریں جس سے دل کو چین ہو آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔

۴؎  خیال رہے کہ یہ کلمات بڑے مبارک ہیں۔جب حضرت خلیل اللہ نمرود کی آگ میں جارہے تھے تو آپ کی زبان شریف پر یہ ہی کلمات تھے اور جب صحابہ کرام کو خبر پہنچی کہ کفار ہمارے مقابلہ کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہ ہی کلمات کہے، یہ کلمات مصیبتوں تکلیفوں میں بہت ہی کام آتے ہیں۔(مرقات)ہر مصیبت میں یہ کلمات پڑھنے چاہیںک۔
Flag Counter