Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
368 - 4047
حدیث نمبر 368
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق پوچھا کہ جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دیئے جائیں گے ۱؎ کہ اس دن لوگ کہاں ہوں گے فرمایا پل صراط پر ۲؎  (مسلم)
شرح
۱؎  ۶خیال رہے کہ تبدیلی ذات جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے روپیہ کو پیسوں سے بدل لیا اور صفات کی تبدیلی جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے اس چھلے کو انگوٹھی سے بدل لیا یعنی اسے پگھلا کر انگوٹھی کی شکل میں بنا لیا۔قیامت کے دن تبدیلی زمین و آسمان کے متعلق دو قول ہیں:  ایک یہ کہ زمین و آسمان کی ذات بدل دی جاوے گی کہ زمین چاندی کی اور آسمان سونے کے کردیئے جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ذات تو یہ ہی رہے گی مگر ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے کہ زمین میں نہ پہاڑ رہیں گے،نہ غار،نہ دریا  نہ نہریں،ساری زمین روئی کی طرح صاف ہوجاوے گی، پہلا احتمال قوی ہے کہ ذات ہی بدل دی جاوے گی ۔(مرقات، اشعہ)

۲؎  سوال کا مقصد یہ ہے کہ زمین بدلنے کی حالت میں زمین پر رہنے والے انسان کہاں جائیں گے وہ اس پر تو رہ نہیں سکتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المؤمنین تبدیلی ذات ہی سمجھی ہیں حضور انور نے بھی اس کی تائید کی کہ فرمایا ہاں واقعی اس وقت لوگ اس زمین پر نہ ہوں گے بلکہ پل صراط پر ہوں گے۔(مرقات)یا کسی اور راستے پر ہوں گے ۔(اشعہ)
Flag Counter