۱؎ ۶خیال رہے کہ تبدیلی ذات جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے روپیہ کو پیسوں سے بدل لیا اور صفات کی تبدیلی جیسے کہا جاتا ہے کہ میں نے اس چھلے کو انگوٹھی سے بدل لیا یعنی اسے پگھلا کر انگوٹھی کی شکل میں بنا لیا۔قیامت کے دن تبدیلی زمین و آسمان کے متعلق دو قول ہیں: ایک یہ کہ زمین و آسمان کی ذات بدل دی جاوے گی کہ زمین چاندی کی اور آسمان سونے کے کردیئے جائیں گے۔ دوسرے یہ کہ ذات تو یہ ہی رہے گی مگر ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے کہ زمین میں نہ پہاڑ رہیں گے،نہ غار،نہ دریا نہ نہریں،ساری زمین روئی کی طرح صاف ہوجاوے گی، پہلا احتمال قوی ہے کہ ذات ہی بدل دی جاوے گی ۔(مرقات، اشعہ)
۲؎ سوال کا مقصد یہ ہے کہ زمین بدلنے کی حالت میں زمین پر رہنے والے انسان کہاں جائیں گے وہ اس پر تو رہ نہیں سکتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ام المؤمنین تبدیلی ذات ہی سمجھی ہیں حضور انور نے بھی اس کی تائید کی کہ فرمایا ہاں واقعی اس وقت لوگ اس زمین پر نہ ہوں گے بلکہ پل صراط پر ہوں گے۔(مرقات)یا کسی اور راستے پر ہوں گے ۔(اشعہ)