| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ یہود کا ایک بڑا عالم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا تو بولا اے محمد اﷲ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھے گا پھر انہیں ملائے گا ۱؎ پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں میں اللہ ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس عالم کے قول پر تعجب کرتے ہوئے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنسے ۲؎ پھر آپ نے تلاوت کی کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدرت نہ جانی ۳؎ جو اس کا حق ہے اور زمین ساری اس کے قبضہ میں ہے قیامت کے دن اور آسمان لپٹے ہوئے ہیں اس کے داہنے ہاتھ میں،پاک ہے وہ اور برتر ہے اس سے جسے یہ شریک ٹھہراتے ہیں۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس عالم نے غالبًا یہ مضمون توریت شریف یا کسی اور اپنی دینی کتاب سے بیان کیا ہوگا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی تردید نہ کی بلکہ تصدیق فرمائی لہذا درست ہے۔ان چیزوں کو انگلیوں پر رکھنے سے مراد نہایت ہی اعلٰی درجہ کی تسخیر ہے یہ ہی بتانا مقصود ہے ۔اردو میں کہتے ہیں کہ تم تو مجھ کو اپنی انگلیوں پر گھماتے ہو یعنی مجھ پر پورے پورے قابض ہو ،تمہارے اشاروں پر میں کام کرتا ہوں لہذا یہ بالکل واضح ہے اگرچہ آج بھی ہر چیز رب کے قبضہ میں ہے مگر اس دن اس کا ظہور ہوگا۔ ۲؎ اس تبسم اور تردید نہ فرمانے سے معلوم ہوا کہ حضور انور نے اس یہودی عالم کی اس بات کی تصدیق فرمادی لہذا یہ درست ہے۔ ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت کی اور ممکن ہے کہ حضرت ابن مسعود نے تلاوت کی ہو اس پوپ کی تصدیق کے لیے ما قدروا اللہ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے اللہ تعالٰی کی شان نہ جانی کہ اس کی یہ قدرتیں جانتے ہوئے اس کے لیے اولاد یا شریک مانا ایسی قدرتوں والا اولاد شریک سے پاک ہے کہ اولاد اور شریک اختیار کر نا مجبوری کی بنا پر ہوتا ہے فانی اور کمزور کو بقاء نسل اور دشمنوں کے مقابلہ کے لیے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے، یوں ہی شریک وہ اختیار کرتا ہے جو اکیلا کچھ نہ کرسکے۔ ۴؎ زمین کے قبضہ میں ہونے اور آسمانوں کے لپٹے ہوئے ہونے کے معنی ابھی کچھ پہلے عرض کیے گئے کہ یہ حدیث یا تو متشابہات میں سے ہے یا یمین سے مراد قدرت ہے اور مطویات کے معنی ہیں قبضہ میں ہونا اس صورت میں معنی ظاہر ہے۔