| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا ۱؎ پھر انہیں اپنے داہنے ہاتھ میں لے گا پھر فرمائے گا کہ میں بادشا ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر والے لوگ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے گا ۳؎ پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ کہاں ہیں تکبر و غرور والے لوگ ۴؎ (مسلم)
شرح
۱؎ آسمان ایسے لپیٹے جائیں گے جیسے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں، رب تعالٰی فرماتاہے:"یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ"۔ ۲؎ ہاتھ سے مراد قدرت ہے،لپیٹنے سے مراد ان سب کو مسخر اور تابع فرمان بنالینا ہے اگرچہ آج بھی آسمان و زمین تابع فرمان ہیں مگر قیامت میں اس کا پورا پورا ظہور ہوگا۔آسمان کے لیے داہنا ہاتھ فرمانا اور زمین کے لیے بایاں ہاتھ فرمانا اس لیے ہے کہ آسمان پر کبھی کسی کی بادشاہت نہ ہوئی زمین پر بادشاہتیں لوگوں کی رہی ہیں اس لیے زمین کے لیے شمال فرمایا تاکہ اس کی زیادہ مقہوری ظاہر ہو۔(مرقات )کہا جاتا ہے کہ یہ کام تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یعنی نہایت معمولی ہے میرے قبضہ میں ہے۔ ۳؎ یہ الفاظ اس حدیث کے زیادہ مناسب ہیں کہ اللہ تعالٰی کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں اور شمال کے جو معنی ابھی ہم نے عرض کیے اس معنی سے یہ مضمون اس حدیث کے خلاف نہیں۔ ۴؎ یہ فرمانا اظہار غضب کے لیے ہوگا اس وقت جواب دینے والا کوئی نہ ہوگا۔ حضور انور نے آج ہم کو یہ سب کچھ سنا دیا تاکہ ہم لوگوں میں تکبرو غرور پیدا نہ ہو۔ خیال رہے کہ ملک بمقابلہ مالک کے عظیم تر ہے مگر بعض لحاظ سے مالک عظیم تر ہے ملک سے۔مالک اور ملک کے بہت نفیس فرق ہماری تفسیر نعیمی مالك یوم الدین کی تفسیر میں ملاحظہ کرو۔