Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
365 - 4047
حدیث نمبر 365
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن زمین کو سمیٹ لے گا ۱؎  اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ پر لپیٹ لے گا ۲؎ پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ۳؎ (مسلم، بخاری)
شرح
۱؎  آج سائنس والے کہتے ہیں کہ اصل زمین ایک انچ کی تھی جسے پھیلا کر اتنا فراخ کردیا گیا ہے،ان کے قول پر تویہ حدیث بالکل ہی ظاہر ہے کہ زمین جتیا پہلے تھی اتنی ہی چھوٹی سی کردی جاوے،اسلام بھی کہتا ہے کہ پہلے زمین پانی پر جھاگ تھی یہ جھاگ کعبہ معظمہ کی جگہ محفوظ ہے وہ ہی زمین کی اصل ہیں قیامت میں بھی ایسی ہی کردی جاوے گی اس کی کیفیت رب تعالٰی ہی جانے۔

۲؎  قرآٓن کریم میں ہے "وَ الْاَرْضُ جَمِیۡعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ"یہ حدیث اس آیت کا بیان ہے ۔یمین کے معنی اگر داہنا ہاتھ ہے تو وہ آیت اور یہ حدیث متشابہات میں سے ہے کہ اس پر ایمان لاؤ اس میں بحث نہ کرو اور اگر اس سے مراد قدرت ہے تو معنی ظاہر ہیں کہ آسمان و زمین اللہ تعالٰی کی قدرت سے حقیر و ذلیل ہوں گے جیسے مٹھی کی چیز مٹھی والے کے ہاتھ میں یا ہاتھ پر لپٹی ہوئی چیز ہاتھ والے کے قبضے میں ہوتی ہے ایسے ہی آسمان و زمین اس کے قبضہ میں حقیر ہوں گے۔

۳؎ یعنی تمام بادشاہوں کی بادشاہت عارضی فانی تھی جو ختم ہوگئی ہماری بادشاہت اصلی دائمی ہے اس لیے فنا نہیں ہوئی۔خیال رہے کہ بادشاہ زمین ہی میں تھے وہ ہی تکبر و غرور کرتے تھے اس لیے الارض کی قید ارشاد ہوئی۔ آسمان کی مخلوق فرشتے وغیرہ نہ بادشاہ تھے نہ متکبرا نہیں علیحدہ فرما دیا، نیز صرف بادشاہوں کا ذکر فرمایا  حضرات انبیاء اولیاء کا ذکر نہ فرمایا کہ ان حضرات نے تکبر کبھی نہیں کیا۔
Flag Counter