۱؎ صور سینگ کے اس بگل کا نام ہے جو قیامت میں حضرت اسرافیل علیہ السلام پھونکیں گے۔پہلی پھونک جانداروں کو بے جان کرنے کے لیے،دوسری پھونک مردوں کو زندہ کرنے کے لیے۔ان دونوں نفخوں میں چالیس سال کا فاصلہ ہوگا کہ اگر سورج ہوتا اور دن رات نکلتے تو چالیس سال کی مدت ہوتی،اس صور کی بڑائی اس کی آواز کی ہیبت ہمارے خیال و وہم سے ورا ہے۔آج ایٹم بم اور چیخنے والے بم کی آواز ہی لوگوں کو مار دیتی ہے، بستیوں میں زلزلے ڈال دیتی ہے وہ تو صور ہے۔
حدیث نمبر 364
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو نفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہے لوگوں نے عرض کیا اے ابوہریرہ کیا چالیس دن فرمایا میں نہیں کہہ سکتا،کہا چالیس مہینے فرمایا میں نہیں کہ سکتا،کہا چالیس سال فرمایا میں نہیں کچھ کہہ سکتا ۱؎ پھر اﷲ آسمان سے پانی اتارے گا تو لوگ ایسے اگیں گے جیسے ساگ اگتا ہے ۲؎ اور نہیں ہے انسان کی کوئی چیز مگر وہ گل جاوے گی سواء ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے ۳؎ اس سے قیامت کے دن مخلوق کی ترکیب دی جاوے گی ۴؎ (مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں یوں بھی ہے کہ سارے انسان مٹی کھالے گی سواء ریڑ ھ کی ہڈی کے اس سے پیدا کیا گیا ۵؎ اور اس میں ترکیب دیا جاوے گا۔
شرح
۱؎ یعنی مجھے یاد نہیں کہ حضور انور نے دن فرمایا یا مہینے یا سال اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر دوسری روایات میں چالیس سال وارد ہے۔ ۲؎ یعنی اس غیبی بارش سے یہ گلے جسم درست ہوجائیں گے،روح پڑنے کے لائق ہوجائیں گے پھر صور پھونکنے پر یہ اجسام زندہ ہوجائیں گے۔ ۳؎ عجب الذنب کے لفظی معنی ہیں دم گچھ،عجب بمعنی اصل ذنب بمعنی دم،جانور کی دم اس ہڈی کے کنارہ سے شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے، ریڑھ کی جو گردن سے شروع ہوتی ہے چوتڑ پر ختم ہوتی ہے اسی پر انسان بیٹھتا ہے یہ اس کے لیے ایسی ہے جیسے دیوار کے لیے بنیاد،اگر یہاں یہ ہی ہڈی مراد ہے تو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہڈی جلد فنا نہیں ہوتی،اسے خاک سو برس کے بعد گلاتی ہے اور اگر اس سے مراد ہیں اجزاء اصلیہ جو انسان کی جسم کی اصل ہیں تو وہ واقی کبھی نہیں فنا ہوتے یہ ایسے باریک اجزاء ہیں جو خوردبین سے بھی دیکھنے میں نہیں آتے،انہیں انگریزی میں ایٹم کہتے ہیں۔ عربی میں اجزاء لایتجزی۔انسان جل جاوے، اسے شیر کھا جاوے اور پاخانہ بن کر اس کے پیٹ سے نکل جاوے وہ اجزاء ویسے ہی رہےں ہیں حتی کہ غذا خون نطفہ میں یہ اجزاء ہوتے ہیں انہیں اجزاء سے انسان پہلے بھی بنا تھا اور آئندہ بھی بنے گا اس لیے ہم بڈھے کو کہتے ہیں کہ یہ وہ ہی ہے جو پہلے بالشت بھر کا بچہ بلکہ نطفہ تھا وہ ہی کیسے کہا جاتا ہے انہیں اصلی اجزاء کو یہ خوب یاد رہے۔ زائد اجزاء میں فرق ہوتا رہتا ہے کہ بیماری میں گل کر نکل جاتے ہیں آدمی دبلا ہوجاتا ہے، عیش میں اور اجزاء بڑھ جاتے ہیں مگر اصل اجزاء اسی طرح رہتے ہیں۔ ۴؎ لہذا اگرچہ جنت میں سارے انسان جوان اور ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے،دوزخی انسان اتنا بڑا کہ اس کی ایک داڑھ پہاڑ کی برابر مگر ہوں گے وہ ہی دنیا کے انسان کیونکہ ان کے اصل اجزاء وہ ہی ہوں گے روح وہ ہی ہوگی جو دنیا میں تھی لہذا اسلام کا محشر اور ہے آریوں کا تناسخ کچھ اور،حتی کہ جولوگ دنیا میں بندر سؤر بنادیئے گئے ان کے بھی اجزاء اصلیہ وہ ہی تھے اور روح وہ ہی تھی لہذا وہ بھی تناسخ نہیں۔ ۵؎ ہمارا جسم پہلے مٹی تھا پھر دانہ بنا پھر آٹا پھر غذا پھر خون پھر نطفہ پھر گوشت کا ٹکڑا پھر یہ انسانی جسم مگر اصلی اجزاء ہر جگہ وہ ہی رہے ۔شعر ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام