Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
363 - 4047
حدیث نمبر 363
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال نکلے گا تو چالیس تک پھرے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا مہینے یا سال ۱؎ پھر اللہ تعالٰی عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا گویا وہ عروہ ابن مسعود ہیں۲؎  آپ اسے تلاش کریں گے ہلاک کردیں گے پھر آپ لوگوں میں سات سال ٹھہریں گے۳؎ کہ دو شخصوں کے درمیان دشمنی نہ ہوگی۴؎ پھر اللہ ایک ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے بھیجے گا ۵؎ تو روئے زمین پر کوئی نہ رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو مگر وہ ہوا اسے وفات دیدے گی حتی کہ اگر تم میں سے کوئی وسط پہاڑ میں داخل ہوجائے تو وہ اس تک داخل ہوگی کہ اسے وفات دیدے گی ۶؎ فرمایا پھر بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے چڑیوں کی طرح ہلکے درندوں کی سی والے ۷؎  نہ کسی اچھی بات کو جانیں گے نہ کسی برائی کو برا جانیں گے۸؎  ان کے پاس شیطان انسانی شکل اختیار کے آوے گا کہے گا تم شرم کیوں نہیں کرتے ۹؎  وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے وہ انہیں بت پرستی کا حکم دے گا۱۰؎ وہ اس حال میں ہوں گے ان کا رزق بہتا ہوگا ان کا عیش خوب ہوگا ۱۱؎ پھر صور پھونکا جاوے گا تو اسے کوئی نہیں سنے گا مگر گردن کبھی جھکائے گا اور کبھی اٹھائے گا ۱۲؎ فرمایا پہلا جو شخص سنے گا وہ شخص ہوگا جو اپنے اونٹ کا حوض پیتا ہوگا ۱۳؎ پھر لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۱۴؎ پھر اللہ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا تو اس سے لوگوں کے جسم اُوگیں گے ۱۵؎  پھر صور میں دوبارہ پھونکا جاوے گا تو اچانک سب لوگ کھڑے دیکھتے ہوں گے۱۶؎  پھر کہا جاوے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف چلو انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھ گچھ کی جاوے گی ۱۷؎ پھر کہا جاوے گا آگ کی  رسد نکالو  تو کہا جاوےگا  کتنی سے کتنی  تو فرمایا جاوے گا ہر ہزار سے نو سو ننانونے ۱۸؎ فرمایا کہ وہ وقت ہوگا جو بچوں کو بڈھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہوگا جب پنڈلی کھولی جاوے گی ۱۹؎(مسلم)اور جناب معاویہ کی حدیث لاتنقطع الھجرۃ توبہ کے باب میں ذکر کردی گئی ۲۰؎
شرح
۱؎ یہ شک ان راوی کو ہے کہ حضور انور نے کیا فرمایا کہ چالیس دن فرمائے یا چالیس ماہ یا سال ورنہ حضور انور نے چالیس دن فرمایا ایک دن ایک سال کی برابر وغیرہ۔

۲؎  یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ ابن مسعود کے ہم شکل ہوں گے،عروہ ابن مسعود سیدنا عبداللہ ابن مسعود کے بھائی ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں جوصلح حدیبیہ کے دن کفار کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،پھر     ۹ھ ؁ میں غزوہ طائف کے بعد یہ اسلام لائے پھر اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دی جس پر قوم نے انہیں قتل کردیا،یہ عبداللہ ابن مسعود کے بھائی نہیں کہ وہ تو عبداللہ ابن مسعود ابن غافل ہذلی ہیں یہ ہی صحیح ہے۔(مرقات)

۳؎  اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ بعض روایات میں ہے چالیس سال،بعض میں ہے سات،سال والی روایات میں آپ کا پہلا قیام جو ۳۳ سال تھا اور سات سال یہ قیام بعد نزول والا ملا کر مراد ہے اور بھی زیادہ کی روایات ہیں۔

۴؎  یعنی ان سات سال میں تمام دنیا میں اسلام ہی ہوگا سب مسلمان متقی ہوں گے،سب کے سینے کینہ سے پاک و صاف ہوں گے۔

۵؎  حضرت عیسیٰ کے پردہ فرمانے کے بعد کچھ عرصہ تو یہ ہی خیر و برکت رہے گی،پھر انسان کافر بھی ہونے لگیں گے حتی کہ کچھ عرصہ بعد دنیا میں کفار بھی بہت ہوجائیں گے لہذا حدیث شریف واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ جب سارے انسان مسلمان ہوچکے تھے تو اس کے ہوا چلنے پر کافر کہاں سے آئے جو زندہ رہے۔

۶؎  خلاصہ یہ ہے کہ اس ہوا سے کوئی مسلمان کسی طرح بچے گا نہیں جہاں بھی ہوگا وفات پاجائے گا۔یہ موت اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت ہوگی کہ بدترین لوگوں میں مسلمان نہ رہیں گے ہم کو اس دعا کی تعلیم دی گئی ہے و توفنا مع الابرار۔

۷؎  یعنی وہ لوگ بالکل بے عقل ہوں گے اور سخت خونخوار۔چڑیا ہر کام میں جلدی کرتی ہے ایسے ہی وہ ہر برائی بغیر سوچے سمجھے جلدی کریں گے گویا گناہ پر اڑ کر پہنچیں گے اور بے رحمی،غصہ وحشت،بربریت طیش میں خونخوار درندوں کی طرح ہوں گے،بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کو بات بات پر قتل و غارت کریں گے۔

۸؎  بلکہ برعکس اچھائیوں کو برا سمجھیں گے اور برائیوں کو اچھا سمجھیں گے،عقل و علم سے خالی ہوں گے اور ساتھ ہی بڑے مالدار ہوں گے،جب مال ہو مگر عقل،دین،علم نہ ہو تو مال زہر ہے،مال سانپ ہے جس کا تریاق دین ہے۔

۹؎  شیطان کا انسان کے دل میں وسوسے ڈالنا اس کا ادنی فریب ہے مگر شکل انسانی میں آکر بہکانا اس کا بڑا ہی سخت فریب ہے جس سے بچنا مشکل ہے اس لیے قرآن مجید میں انسان شیطان کو جن شیطان سے سخت تر فرمایا کہ "شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الْجِنِّ"۔(مرقات)وہ کہے گا کہ تم خدا رسی کا ذریعہ کیوں اختیار نہیں کرتے اللہ کی راہ سے کیوں بہکے ہوئے ہو۔

۱۰؎  یعنی تم لوگ بت پرسی کرو خدا رسی کے لیے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اولًا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے ہوں گے نہ خدا تعالٰی کی نہ بتوں کی،جانوروں کی طرح یوں ہی زندگی گزارتے ہوں گے شیطان انہیں برے راستہ پر لگا دے گا۔

۱۱؎  یعنی ان پر بڑا عذاب یہ ہوگا کہ اس بے علمی بے عقلی بے دینی کے ساتھ ان کے پاس مال و دولت رزق بہت ہی وسیع ہوگا کہ اس سے ان پر گناہوں کے دروازے کھل جائیں گے۔

۱۲؎  لیت لام کے کسرہ سے گردن کی ایک طرف ایک حصہ کو کہتے ہیں یعنی وہ گھبراہٹ میں کبھی گردن کی داہنی کروٹ اونچی کرے گا بائیں نیچی کبھی اس کے برعکس۔اس کی یہ حرکت انتہائی گھبراہٹ میں ہوگی کہ کبھی وہ صور کی آواز داہنے کان سے سنے گا کبھی بائیں سے۔

۱۳؎  صور کی آواز لازمًا نہایت ہلکی اور باریک ہوگی جسے سوا اس شخص کے کوئی نہ سنے گا پھر آہستہ آہستہ تیز ہوتی جائے گی۔

۱۴؎  پہلے بے ہوش ہوں گے پھر فنا،یا بے ہوشی سے مراد ہلاکت ہے،اشعۃ اللمعات نے یہ ہی معنی کیے۔

۱۵؎  یہ واقعہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا اس دوران میں ان مردوں کے جسم گل چکے ہوں گے،اس بارش سے لوگوں کے جسم ایسے اگیں گے جیسے کھیت میں سبزہ اگتا ہے۔

۱۶؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ جسموں کی بالیدگی تو اس ہلکی بارش سے ہوگی اور سب کا زندہ ہونا صور کی آواز سے ہوگا۔

۱۷؎  پہلا خطاب زندہ ہونے والے لوگوں سے تھا کہ اے زندہ ہونے والو یہاں سے میدان حشر کی طرف یعنی شام کی زمین کی طرف چلو، جب یہ لوگ وہاں پہنچ جائیں گے تب فرشتوں سے کہا جائے گا کہ انہیں یہاں کھڑا کردو یہاں ہی ان کا حساب ہوگا۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فرشتوں کی نگرانی میں محشر تک جائیں گے اور انہیں فرشتے وہاں کھڑا کریں گے۔

۱۸؎  یہ سوال جواب رب تعالٰی اور ان فرشتوں کے درمیان ہوگا یعنی اے فرشتو تمام لوگوں میں سے آگ کے مستحقین کو الگ کردو تب وہ یہ سوال کریں گے کہ آگ کا حصہ کتنا ہے ،فرمایا جائے گا ہزار میں سے نو سو ننانوے۔اس فرمان عالی کی دو شرحیں ہیں: ایک یہ کہ نو سو ننانوے میں کفار گنہگار جو بھی دوزخ کے لائق ہیں سب ہوں گے،پھر سارے گنہگار حضور کی شفاعت سے بخش دیئے جائیں گے،بعض تو یہاں ہی اور بعض دوزخ میں سزا پاکر صرف کفار وہاں رہیں گے۔ دوسری شرح یہ ہے کہ محشر کی اس جماعت میں یاجوج ماجوج بھی ہوں گے ان کی تعداد کا یہ حال ہے کہ یہاں بیرونی زمین کے انسان ان کے مقابلے میں فی ہزار ایک ہیں۔(اشعۃ اللمعات)بہرحال یہ خطاب بہت ہی ہولناک ہوگا۔

۱۹؎  یعنی اس دن کی وحشت و دہشت کا یہ حال ہوگا کہ اگر اس دن بچے ہوتے تو بڈھے ہوجاتے غم و اندوہ کی وجہ سے۔ پنڈلی کھلنے سے مراد ہے سخت پریشان ہونا یعنی لوگوں کو اس وقت انتہائی پریشانی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ جب حاملہ اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو آدمی ہاتھ ڈال کر اسے نکالتا ہے،پہلے اس بچہ کی پنڈلی نمودار ہوتی ہے،یہ اونٹنی پر سخت تر وقت ہوتا ہے،پھر محاورہ میں ہر مشکل میں پھنسنے کو پنڈلی کھل جانے سے سے تعبیر کیا جا تاہے۔قرآن مجید میں جو ارشاد ہوا  "یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ"وہاں پنڈلی کھولے  جانے سےمراد بعض کے نزدیک یہ ہے کہ رب تعالٰی اپنی ساق قدرت کھولے گا،لوگوں کو حکم دے گا کہ ہماری ساق کو سجدہ کرو۔

۲۰؎  وہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی ہم نے وہاں بیان کی وہاں کے زیادہ مناسب ہے۔
Flag Counter