Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
362 - 4047
حدیث نمبر 362
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رات و دن ختم نہ ہوں گے حتی کہ لات و عزیٰ کی پرستش کی جانے لگے ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں گمان کرتا تھا کہ جب یہ آیت کریمہ اتری کہ وہ اللہ وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں کہ یہ لازوال ہے۲؎  فرمایا کہ جس قدر اللہ چاہے گا تب تک رہے گا۳؎  پھر اللہ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا تو ہر وہ شخص وفات دے دیا جاوے گا۴؎ جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہے تو وہ باقی رہ جائیں گے،جن میں بھلائی نہیں وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے ۵؎ (مسلم)
شرح
۱؎ لات بنا ہے لت سے بمعنی ستو گوندھنا،لات ایک شخص تھا جو حاجیوں کے لیے ستو گھولا اور گوندھا کرتا تھا،اس کے مرے بعد قبیلہ ثقیف نے ایک بت رکھ لیا۔عزیٰ قبیلہ غطفان کا بت تھا یہ دونوں پہلے کعبہ معظمہ میں تھے،قریب قیامت جب کعبہ معظمہ ڈھا دیا گیا ہوگا مکہ کے لوگ مشرک ہوکر پھر لات و عزیٰ بت بنا کر اسے پوجنے لگیں گے۔خیال رہے کہ جب تک دنیا میں اسلام،قرآن،کعبہ معظمہ ہے تب تک حجاز مقدس میں بت پرستی ہرگز نہیں ہوسکتی،جب روئے زمین سے یہ چیزیں اٹھ جائیں گی تب حجاز میں بھی مشرکین اور بت پرستی ہوگی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ شیطان حجاز والوں سے شرک نہیں کرا سکتا کیونکہ قریب قیامت تو روئے زمین پر کہیں ایک مسلمان نہ ہوگا تو حجاز میں مؤمن کہاں سے آئیں گے۔

۲؎  یعنی میں نے لیظھرہ کے معنی یہ سمجھے تھے کہ اب دنیا سے اسلام کبھی بھی ختم نہ ہوگا مگر حضور والا کے فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ قریب قیامت اسلام بھی ختم ہوجاوے گا میرا یہ خیال درست نہ نکلا مجھے اس پر تعجب ہے۔

۳؎  سبحان اﷲ! کیسا پیارا محققانہ جواب ہے یعنی اسلام دین تام بھی ہے غالب بھی مگر اس غلبہ کی ایک حد ہے جس پر پہنچ کر ختم کردیا جاوے گا۔سورج یقینًا منور ہے مگر بعد غروب سورج کالا نہیں ہوجاتا بلکہ زمین اس کا فیض لینے سے محروم ہوجاتی ہے،نقصان سورج میں نہیں آیا زمین کے فیض لینے میں آیا لہذا اسلام تام ہی ہے۔

۴؎  جب اس طیب ہوا سے تمام روئے زمین کے مسلمان وفات پا جائیں گے تو حجاز مقدس میں مسلمان کیسے رہ سکتے ہیں وہاں بھی مشرکین ہی رہ جائیں گے۔خیال رہے کہ رائی بھر ایمان سے یہ بتایا کہ فاسق سے فاسق مسلمان جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہو صرف عقائد کا درست ہو وہ بھی وفات پاجاوے گا نیک و صالحین کا تو ذکر ہی کیا۔

۵؎  اس فرمان عالی کا مطلب یہ ہے کہ جو عنداﷲ مؤمن ہے جن کا خاتمہ ایمان پر ہونے والا ہے وہ تو اس ہوا سے وفات پاجائیں گے اور جو دنیا میں کلمہ گو تھے مگر اللہ کے علم میں کافر مرنے والے تھے وہ مرتد ہوکر باپ دادوں کا دین اختیار کرلیں گے یعنی مرتد ہوجائیں گے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب سارے مسلمان فوت ہوگئے تو مرتد کون ہوا۔

لطیفہ: مولوی اسماعیل صاحب دہلوی نے  تقویۃ الایمان میں لکھا کہ وہ ہوا چل چکی  اور سارےمسلمان مشرک ہوچکے  جس سے لازم آیا کہ مولوی اسماعیل اور ان کی ذریت بھی مرتد مشرک ہوچکے کیونکہ وہ بھی زمین پر ہی رہتے تھے وہ کیسے مسلمان رہ گئے،مسلمانوں کو مشرک بنانے کے شوق میں اپنے اور اپنوں پربھی ہاتھ صاف کر گئے۔
Flag Counter