۱؎ دوس یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے،اس ہی قبیلہ کے حضرت ابوہریرہ تھے،دوسی کفار نے کعبہ معظمہ کے مقابلہ میں ایک بت خانہ بنایا تھا جس میں ایک بت تھا خلصہ نام اس لیے اس گھر کو کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے اور ذوالخلصہ بھی۔اس ذوالخلصہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جریر ابن عبداللہ اور دیگر غازی صحابہ کرام کے ذریعہ آگ سے جلوا کر فنا کروا دیا تھا۔یہاں ارشاد ہورہا ہے کہ قریب قیامت دوس کے کفار پھر اس بت خانہ کو آباد کریں گے اور وہاں کے لوگ اس کا طواف کریں گے۔عورتوں کے چوتڑ ہلنے سے مراد ہے کہ ان کی عورتیں تک اس بت خانہ کے اردگرد طواف کعبہ کی طرح چکر لگائیں گی حالانکہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں دین پر بہت پختہ ہوتی ہیں اس وقت وہ بھی بہک جائیں گی۔
۲؎ خلصہ بت کا نام تھا اور ذوالخلصہ بت خانہ کا نام یعنی خلصہ والا گھر،یہ تفسیر یا تو حضرت ابوہریرہ کی ہے یا کسی اور راوی کی۔