روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جاوے گا ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اس شخص پر قیامت نہ قائم ہوگی جو اللہ اللہ کہتا ہو ۲؎(مسلم)
۱؎ اللہ اللہ کی تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی اس وقت کوئی ایسا آدمی نہ رہے گا جو اللہ کا نام لے اس وقت سارے انسان بت پرست کفار ہوں گے۔معلوم ہوا کہ عالم کا بقا علماءوعاملین اور صالحین کی برکت سے ہے،معلوم ہوا کہ علماء صالحین کی برکت،جن،فرشتے،حیوانات، جمادات،نباتات سب کو پہنچتی ہے کہ ان کی وجہ سے یہ تمام قیامت کی وحشت سے امن میں ہیں۔(مرقات) اس لیے حدیث شریف میں آیا ہے علماء کی بقاء کے لیے پانی میں مچھلیاں دعا کرتی ہیں۔
۲؎ یہاں احد سے مراد انسان ہیں ورنہ فرشتے تو اس وقت بھی اللہ اللہ کرتے ہوں گے۔