Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
359 - 4047
باب لا تقوم الساعۃ الا علی شرار الناس

قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر   ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  بدترین سے مراد کفار اور بدکار ہیں یعنی مؤمنین صالحین قیامت سے پہلے ہی مرچکے ہوں گے جیساکہ پہلےگزر چکا۔ نیکوں کا وجود دنیا کا تعویذ ہے جب تک یہ لوگ ہیں قیامت نہیں آسکتی۔
حدیث نمبر 359
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جاوے گا ۱؎  اور ایک روایت میں ہے کہ اس شخص پر قیامت نہ قائم ہوگی جو اللہ اللہ کہتا ہو ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ اللہ اللہ کی تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی اس وقت کوئی ایسا آدمی نہ رہے گا جو اللہ کا نام لے اس وقت سارے انسان بت پرست کفار ہوں گے۔معلوم ہوا کہ عالم کا بقا علماءوعاملین اور صالحین کی برکت سے ہے،معلوم ہوا کہ علماء صالحین کی برکت،جن،فرشتے،حیوانات، جمادات،نباتات سب کو پہنچتی ہے کہ ان کی وجہ سے یہ تمام قیامت کی وحشت سے امن میں ہیں۔(مرقات) اس لیے حدیث شریف میں آیا ہے علماء کی بقاء کے لیے پانی میں مچھلیاں دعا کرتی ہیں۔

۲؎  یہاں احد سے مراد انسان ہیں ورنہ فرشتے تو اس وقت بھی اللہ اللہ کرتے ہوں گے۔
Flag Counter