۱؎ یہ تشبیہ نہایت ہی بلیغ ہے جس میں بتایا گیا ہے دنیا اب قریب الختم ہے مگر یہ قرب رب تعالٰی کے علم کے لحاظ سے ہے نہ کہ ہمارے حساب سے،وہاں کا ایک دھاگہ بھی بہت دراز ہوتا ہے اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ قریبًا اس فرمان کو چودہ سو برس ہوچکے اب تک وہ دھاگہ ٹوٹا ہی نہیں۔خیال رہے کہ آدم علیہ السلام تو آخری مخلوق ہیں اور انسان انکی اولاد دنیا آپ سے کروڑوں بلکہ اربوں سال پہلے پیدا ہوچکی تھی،فرشتے،آسمان زمین،چاند ستارے سورج، پھر زمین کے جانور وغیرہ سب پہلے ہی پیدا ہوچکے تھے اور قیامت میں یہ ساری مخلوق فنا کردی جاوے گی یا بے ہوش اور قیامت حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ساڑھے سات ہزار سال بعد قائم ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آدم علیہ السلام سے چھ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد پیدا ہوئے تو ظاہر ہے کہ اس فرمان عالی کے وقت دنیا دھاگے میں لگی رہ گئی تھی اب تو اس فرمان عالی کو بھی پونے چودہ سو سال گزرے اب تو قیامت بہت ہی قریب ہے رب تعالٰی اس کا خوف نصیب کرے۔