۱؎ اس فرمان کے بہت مطلب بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالٰی پانچ سو سال تک میری امت کو اعمال کرنے کی مہلت ضرور دے گا کہ اس سے پہلے قیامت نہ آوے گی،اس سے زیادہ مہلت دے دے تو اس کی مہربانی ہے۔ الحمدﷲ یہ خبر بالکل درست ہوئی اب قریبًا چودہ سو برس گزر چکے اور ابھی قیامت نہیں آئی۔دوسرے یہ کہ پانچ سو سال تک میری امت بڑے فتنوں بڑی آفتوں سے محفوظ رہے گی پھر بڑے بڑے فتنے آفتیں نمودار ہوں گی۔ (مرقات،اشعہ)
۲؎ یعنی اس فرمان عالی میں دن سے مراد اللہ کا دن ہے اور اللہ کے دن کے متعلق رب فرماتاہے:"اِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ"۔شیخ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پردہ فرمانے کے ایک سال کے بعد جو پانچ سو سال ہوں گے یہ امت اس سے آگے نہ بڑھے قیامت اس دوران میں آجائے گی،اب پونے چودہ سو برس ہوئے ڈیڑھ سو سال باقی ہیں۔(اشعہ)ایک روایت میں ہے انسانی دنیا کی عمر ساڑھے سات ہزار سال ہے،حضور انور کی ولادت پاک حضرت آدم علیہ السلام سے ساڑھے چھ ہزار سال بعد ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ سو سال تک اسلامی نظام نہ بگڑنے پائے گا اس مدت کے بعد اس میں خلل پیدا ہوگا۔