| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے سنا کہ تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہو ۱؎ اس کا علم اﷲ کے پاس ہے۲؎ اور میں اﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ زمین پر ایسی کوئی نفاس سے پیدا ہونے والی ذات نہیں۳؎ جس پر سو سال گزریں اور وہ اسی دن زندہ ہو۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی تم مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ قیامت کس سنہ،کس دن،کس مہینے ،کس تاریخ میں قائم ہوگی،یہاں قیامت سے مراد پہلا نفخہ ہے جس میں وہ سب فنا ہوجائیں گے۔ ۲؎ یعنی قیامت کا وقوع اسرار الہیہ میں سے ہے جس کا علم صرف خدا تعالٰی کو ہے کسی اندازےتخمینہ اٹکل قیاس سے معلوم نہیں ہوسکتی،ہاں اللہ تعالٰی ہی کسی کو بتائے تو وہ قادر ہے۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو قیامت کا علم بھی عطا فرمایا اس لیے حضور انور نے قیامت کی ساری علامتیں بیان فرمادیں،قیامت کا دن،تاریخ،مہینہ بتادیا کہ جمعہ کے دن محرم کے مہینہ دسویں تاریخ کو قائم ہوگی،ہاں سنہ نہ بتایا کہ یہ صیغہ راز میں رہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو،بلکہ اللہ تعالٰی حضور کے توسل سے بعض اولیاء اللہ کو بھی علم قیامت بخشتا ہے اس لیے حضور انور نے یہ نہ فرمایا کہ مجھے اللہ نے قیامت کا علم نہ دیا ہے نہ دے گا۔ ۳؎ نفس کا معنی زندہ چیز،منفوسہ بنا ہے نفاس سے یعنی جو زندہ نفاس والی عورت سے پیدا ہوا ہے وہ آج سے سو برس کے بعد زندہ نہ رہے گا۔خیال رہے کہ اس فرمان عالی سے مراد ہے کہ جو انسان ظاہری زمین پر موجود ہے وہ سو برس کے اندر وفات پاجائے گا۔جنات انسان نہیں،حضرت عیسیٰ و ادریس علیہما السلام زمین پر نہیں آسمان یا جنت میں ہیں،حضرت خضر زمین پر نہیں رہتے پانی میں رہتے ہیں،الیاس علیہ السلام اور اصحاب کہف ظاہری زمین پر نہیں جو سب کو نظر آویں۔سانپ گدھ وغیرہ جانور نفس تو ہیں مگر منفوسہ یعنی نفاس والی عورت سے پیدا نہیں لہذا یہ سب چیزیں اس فرمان سے علیحدہ ہیں۔چار نبی زندہ ہیں: دو زمین میں حضرت خضر و الیاس کہ خضر پانی میں اور الیاس خشکی میں رہتے ہیں،دو آسمان میں حضرت عیسیٰ چوتھے آسمان پر،ادریس جنت میں علیہم السلام۔(مرقات، اشعہ)حضور غوث پا ک کبھی دوران وعظ فرماتے تھے اے اسرائیلی ٹھہریئے ایک محمدی کا کلام سنتے جانا یعنی حضرت خضر سے فرماتے تھے۔(اشعہ) ۴؎ یعنی آج کی تاریخ سے سو برس بعد یہ فرق ختم ہوجائے گا اگرچہ بعض صحابہ کی عمریں سو برس سے زیادہ ہوئیں جیسے حضرت سلمان فارس اور حضرت انس مگر آج کی تاریخ سے سو برس میں سب وفات پاچکیں گے۔معلوم ہوا کہ حضور انور کو سب کی موت کا علم دیا گیا۔