Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
352 - 4047
باب قرب الساعۃ و ان من مات فقد قامت قیامتہ

قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ قیامت کو ساعت اس لیے کہتے ہیں کہ قیامت کا قیام بھی پل بھر میں اچانک ہوجائے گا۔حدیث شریف میں قیامت تین معنی میں ارشاد ہوتا ہے:قیامت صغریٰ(چھوٹی)یعنی انسان کی اپنی موت،قیامت وسطیٰ(درمیانی)ایک زمانہ کا ختم ہونا جسے قرن کہتے ہیں،قیامت کبریٰ(بڑی)یعنی لوگوں کا سزا جزا کے لیے اٹھنا۔یہاں پہلی ساعت سے مراد قیامت کبریٰ ہے اور دوسری قیامت سے مراد قیامت صغریٰ ہے۔قیامت کبریٰ قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کا بہت زمانہ گزر چکا جتنا باقی ہے وہ بہت تھوڑا ہے۔خیال رہے قیامت کبریٰ کے بہت سے موقعہ ہیں: پہلا نفخہ جب سب فنا یا بے ہوش ہوجائیں گے،دوسرا نفخہ جب سب زندہ یا باہوش ہوجائیں گے،پھر اول حال ظہور جلال کا وقت،پھر درمیانہ حال جب حساب وکتاب اس کے علاوہ دوسرے کام ہوں گے،پھر آخر حال فیصلہ کا وقت ان مختلف اوقات میں مختلف حال ہوں گے۔
حدیث نمبر 352
روایت ہے حضرت شعبہ سے وہ قتادہ سے وہ جناب انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح بھیجے گئے ہیں ۱؎ شعبہ نے فرمایا کہ میں نے قتادہ کو انکے وعظوں میں فرماتے سنا۲؎ کہ جیسے ان دونوں میں سے ایک کی زیادتی دوسری۳؎  پر مجھے یہ خبر نہیں کہ اسے حضرت انس سے روایت کیا یا قتادہ نے خود کہا۔ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  ھاتین سے اشارہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی کی طرف ہے۔اور اس فرمان عالی کے چند معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان میں کوئی انگلی نہیں ایسے ہی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں،ہمارا دین قیامت سے ملا ہوا اور قیامت تک ہے یا ہم قیامت سے بہت قریب ہیں۔کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی سے قریب یا ہم قیامت سے وہاں کے حالات سے خبردار ہیں جیسے قریب والا اپنے قریب والے کے حالات سے خبردار ہوتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ بڑی انگلی کا کنارہ کلمہ کی انگلی کے کنارہ سے اوپر ہے مگر ہے قریب ایسے ہی قیامت ہمارے بعد مگر ہے قریب،حضور کی تشریف آوری علامات قیامت سے ایک علامت ہے۔

۲؎  جس تقریر میں احکام شرعی یا رحمت و عذاب کا ذکر ہو اسے وعظ کہتے ہیں اورجس میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ گزشتہ یا آئندہ کے واقعات وغیرہ ہوں اسے قصہ کہتے ہیں اور مقرر کو قاضی۔

۳؎  یہ دوسری حدیث ہے اس میں آخری معنی مراد ہیں کہ بڑی انگلی کلمے کی انگلی سے کچھ ہی بڑی ہے ایسے ہی قیامت ہم سے کچھ ہی دور ہے یہ جملہ پہلے جملہ کی شرح نہیں ہے۔(مرقات)
Flag Counter