روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف اتریں گے،نکاح کریں گے،انکے اولاد ہوگی ۱؎ اور پینتالیس سال قیام کریں گے۲؎ پھر وفات پائیں گے میرے ساتھ میرے مقبرہ میں دفن کیے جائیں گے۳؎ تو ہم اور عیسیٰ ابن مریم ابوبکروعمر کے درمیان ایک مقبرے سے اٹھیں گے ۴؎ (ابن جوزی کتاب الوفاء)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ نکاح ایک ہی کریں گے اور اولاد ایک سے زیادہ ہوگی تفصیل معلوم نہ ہوسکی۔ ۲؎ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمین میں ٹھہرنے کے متعلق تین روایتیں ہیں: سات سال،چالیس سال،پینتالیس سال، ان میں مطابقت اس طرح سے کی جاسکتی ہے کہ آپ تینتیس سال کی عمر میں آسمان پر تشریف لے گئے اوراب قریب قیامت تشریف لاکر بارہ سال زمین میں رہیں گے۔جن روایات میں پینتالیس سال ہے وہاں یہ مجموعی پوراقیام مرادہے، جن میں چالیس ہے وہاں مجموعی دونوں قیاموں کی دہائی لے لی گئی ہیں،اکائی جو مثل کسر کے ہےچھوڑ دی گئی ہے، سات سال والی روایت میں آئندہ قیام کا ذکر ہے،پانچ سال دجال کو فنا کرنے یاجوج ماجوج سے مسلمانوں کو بچانے،دنیا میں انتظام قائم کرنے میں صرف ہوں گے اور سات سال مستقل امان کے ساتھ خلافت کرنے میں۔(مرقات) ۳؎ چنانچہ اب روضہ شریف میں تین قبریں ہیں چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے،وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے، لوگوں نے امام حسن کو وہاں دفن کرنا چاہا حضرت عائشہ صدیقہ نے اجازت دے دی مگر بنی امیہ نے دفن نہ ہونے دیا،پھر عبدالرحمن ابن عوف کو دفن کرنا چاہا جناب عائشہ صدیقہ نے اجازت دی مگر یہ نہ ہوسکا،پھر حضرت عائشہ صدیقہ سے لوگوں نے کہا کہ آپ وہاں دفن ہوں کہ گھر آپ ہی کا ہے مگر آپ نے فرمایا نہیں مجھے میری سہیلیوں یعنی دوسری ازواج کے ساتھ دفن کرنا بقیع میں،ارادۂ الٰہی تھا کہ وہ جگہ خالی رہے۔(اشعہ) ۴؎ یہاں قبر سے مراد مقبرہ ہے یعنی قیامت کے دن روضہ انور سے ہم چار صالحین اٹھیں گے جن میں دو نبی ہوں گے بیچ میں اور داہنے بائیں صدیق اور عمر فاروق شہید اکبر ہوں گے گویا"مِنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیۡنَ"اس آیت کا پورا مظہر اور ان پانچوں کا مجمع یہاں ہوگا۔حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق بعد انبیاء سب سے افضل اور سب سے بڑھ کر خوش نصیب ہیں۔