| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میری امت کی ایک جماعت حق پر قیامت تک لڑتی رہے گی ۱؎ فرمایا تب عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا آئیے ہم کو نماز پڑھائیے تو وہ کہیں گے۲؎ نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں یہ اللہ کی طرف سے اس امت کے احترام کی وجہ سے۳؎ (مسلم)اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
شرح
۱؎ قیامت سے مراد قریب قیامت ہے جب کہ دنیا میں مؤمن و کافر دونوں ہوں گے،قیامت کے قیام کے وقت تو مؤمن نہ رہیں گے۔اور طائفہ سے مراد اسلام کے غازی مجاہد اور علما ربانی،صوفیاءکرام،اولیاء عظام ہیں کہ تاقیامت اسلام میں یہ جماعتیں رہیں گی۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد قیامت تک ہے مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں نے جہاد منسوخ کردیا۔ ۲؎ امیر سے مراد امام مہدی ہیں جو مسلمانوں کے اس وقت دینی امیر حاکم ہوں گے رضی اللہ عنہ۔وہ کہیں گے کہ آپ مجھ سے افضل ہیں کہ اپنے وقت کے نبی اور اس وقت کے عالم مجتہد ہیں آپ نماز پڑھایئے۔ ۳؎ یعنی میں نماز پڑھانے نہیں آیا دین اسلام کی دوسری خدمتیں کرنے آیا ہوں امام آپ ہی ہیں،اول وقت تو آپ یہ فرمائیں گے بعد میں بہت سی نمازیں بار ہا پڑھائیں گے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت کریں گے۔(مرقات)