Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
349 - 4047
حدیث نمبر 349
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خدا کی قسم ابن مریم اتریں گے حاکم عادل ہوکر  ۱؎  تو صلیب توڑ دیں گے اور سؤر فنا کردیں گے جزیہ ختم فرما دیں گے۲؎  اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی جن پر کام کاج نہ کیا جاوے گا۳؎  اور کینے،بغض،حسد جاتے رہیں گے۴؎ وہ مال کی طرف بلائیں گے تو کوئی اسے قبول نہ کرے گا ۵؎ (مسلم)اور مسلم،بخاری کی روایت میں ہے فرمایا تم کیسے ہوں گے جب تم میں ابن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا ۶؎
شرح
۱؎ چونکہ قریب قیامت آپ چوتھے آسمان سے فرش پر آویں گے اسی لیے نزول فرمایا گیا،چونکہ آپ بغیر والد کے پیدا ہوئے اس لیے ابن مریم فرمایا،نیز ابن مریم فرماکر یہ بتایا کہ یہ مسیح وہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے جو پہلے دنیا میں تشریف لاچکے تھے اس نام کا کوئی اور آدمی نہ ہوگا۔افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد ماں کا نام چراغ بی بی اور وہ آسمان سے اترے نہیں بلکہ ماں کے پیٹ سے جنے گئے مگر پھر بھی کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں،بھلا کچھ حد ہے اس ڈھٹائی کی۔

۲؎  ان تینوں کے معنی پہلے عرض کیے جاچکے ہیں کہ صلیب توڑنے کے معنی یہ ہیں کہ صلیب فنا کردی جائے گی،کسی کو اس کی پرستش کی اجازت نہ ہوگی،اسی طرح سؤر فنا کردیئے جائیں گے کہ نہ کوئی انہیں کھاسکے گا نہ پال سکے گا۔مرزائی ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام سؤروں کا شکار کھیلتے پھریں گے وغیرہ وغیرہ اس کا مطلب یا سمجھتے نہیں یا دیدہ دانستہ یہ کہتے ہیں۔

۳؎  اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اونٹوں کی زکوۃ نہ لی جاوے گی کہ مال کی زیادتی کی وجہ سے زکوۃ لینے والا کوئی نہ ہوگا۔یعنی یسعی بنا ہے سعایۃ سے جس سے ہے ساعی۔دوسرے یہ کہ اونٹنیوں پر سواری بار برداری نہ کی جائے گی کیونکہ دوسری سواریاں ان کاموں کے لیے بہت ایجاد ہوچکی ہوں گی۔خیال رہے کہ ابھی اونٹنیاں معطل نہ ہوئیں ان سے بہت کام لیے جارہے ہیں لہذا مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ میرے زمانہ میں اونٹ بے کار ہوگئے ریل موٹر وغیرہ کی وجہ سے محض غلط ہے،آنکھوں دیکھ لو کہ اونٹوں سے صدہا کام لیے جارہے ہیں لوگوں میں امیری نہیں خود مرزا جی مانگتے رہے یا اونٹوں کو شکاری جانور کا خطرہ نہ رہے گا کوئی انکی حفاظت نہ کرے گا۔

۴؎  یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکت سے لوگوں کے دلوں سے حسد بغض کینے نکل جائیں گے کیونکہ کسی کے دل میں دنیا کی محبت نہ رہی گی،ہر ایک کو دین و ایمان کی لگن لگ جائے گی،محبت دنیا ان سب کی جڑ ہے جب جڑ ہی کٹ گئی تو شاخیں کیسے رہیں،نیز مختلف دین نہ رہیں گے سب کا دین ایک اسلام ہوگا۔غرضکہ نہ دنیاوی جھگڑے رہیں گے،نہ دینی اختلافات،نہ کسی کو حرص مال ہوگی،نہ عزت و جاہ کی خواہش۔غرض کہ آپ کی برکت سے دلوں کی دنیا بدل جاوے گی۔

۵؎  یعنی لوگوں کو مال کی نہ ضرورت رہے گی نہ ہوس۔کفایت،قناعت دونوں میسر ہوں گی اس لیے مال لینا منظور نہیں کریں گے کہ انہیں رغبت نہ ہوگی۔

۶؎  اس فرمان عالی کے چندمعنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ وامامکم میں واؤ حالیہ ہے۔مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس حالت میں اتریں گے کہ نماز کی جماعت ہورہی ہوگی اور مسلمانوں کو ان کا امام نماز پڑھا رہا ہوگا یعنی امام مہدی،بعد میں نمازیں عیسیٰ علیہ السلام ہی پڑھایا کریں گے۔دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خلیفۃ المسلمین ہوں گے مگر امامت نماز حضرت مہدی کیا کریں گے جو عرب ہوں گے،قرشی ہاشمی مسلمین میں سے ہوں گے۔تیسرے یہ کہ خود عیسیٰ علیہ السلام ہی تم مسلمانوں میں سے ہوں گے اور امام ہوں گے نماز پڑھایا کریں گے،بعض شارحین نے اس تیسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ پہلے دومعنی سے لازم آوے گا کہ  عیسیٰ علیہ السلام اس وقت بھی مسلمانوں میں سے نہ ہوں  بلکہ ان کا دین  اپنا  پرانا دین ہو۔پہلے دو معنے سے   معلوم ہورہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اور ہوں گے امام کوئی اور ہوگا مگر مرزائے قادیان کہتا ہے کہ میں ہی عیسیٰ ہوں،میں ہی امام مہدی،میں ہی کرشن،میں ہی خدا اور یہ حدیث پیش کرتا ہے،یہ حدیث تو اس کے خلاف ہے۔
Flag Counter