۱؎ قریب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر تشریف لائیں گے،دین محمدی کے تابع ہوں گے،حضور کی شریعت پر عمل کریں گے اور لوگوں سے عمل کرائیں گے،جزیہ اور سؤر کو ختم فرمادیں گے یعنی کسی شخص کو کافر رہ کر جزیہ دینے کا اختیار نہ ہو گا کوئی سؤر نہ کھاسکے گا،سؤر فنا کردیئے جائیں گے یہ دونوں حکم آپ منسوخ نہ کریں گے،خود حضور انور نے فرمادیا تھا کہ ان کی تشریف آوری پر یہ دونوں حکم منسوخ ہوجائیں گے ان کے ناسخ خود حضور انور کے فرمان ہیں جن کا ظہور اس وقت ہوگا۔
حدیث نمبر 348
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تم میں ۱؎ ابن مریم حاکم عادل ہوکر اتریں وہ صلیب کو توڑیں گے سؤروں کو فنا کردیں گے۲؎ جزیہ کو ختم فرمادیں گے،مال کو بہادیں گے حتی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہوگا۳؎ پھر جناب ابوہریرہ فرماتے تھے کہ اگرچاہو تو یہ آیت پڑھو کہ کوئی اہل کتاب سے نہیں مگر وہ ان پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آوے گا۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی تم مسلمانوں میں وہ آئیں گے نہ کہ تم صحابہ میں۔ ۲؎ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سؤروں کا شکار کرتے رہیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو نہ کافر رہنے کی اجازت ہوگی،نہ سؤر کھانے شراب پینے کی،اس وقت کفار کے لیے دو ہی صورتیں ہوں گی: یا اسلام یا قتل،یہ حضور ہی کا حکم ہے جس کا ظہور اس دن ہوگا۔ ۳؎ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی برکت سے دنیاوی مال دلی تقویٰ بہت ہی ہوجائے گا،سارے لوگ متقی پرہیزگار عبادت گزار شب بیدار ہوجائیں گے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے دم قدم سے زمانے بدل جاتے ہیں،دل تقویٰ سے بھر جاتے ہیں،دلوں پر ان کا اثر پڑتا ہے،یہ حضرات لوگوں کے دل رنگ دیتے ہیں۔لوگ سوچ لیں کہ کیا مرزائے قادیان کے زمانہ میں یہ کام ہوئے وہ تو خود چندہ کرتے ہوئے قبریں فروخت کرتے ہوئے مرا پھرکس طرح وہ مسیح موعود ہوسکتا ہے رب تعالٰی اس کے شر سے مسلمانوں کو بچائے۔ ۴؎ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے یہودی اور عیسائی سارے ہی آپ کو اﷲ کا بندہ اﷲ کا رسول مان لیں گے اور ابھی تو سب مسلمان ہوئے نہیں۔معلوم ہوا کہ ابھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات بھی نہیں ہوئی۔قبل موتہ میں ہ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے نہ کہ اہل کتاب کی طرف کیونکہ اپنی موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں ہوتا لہذا اس آیت کے معنی یہ نہیں کہ سارے اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لے آتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرزائے قادیانی مسیح موعود نہیں وہ تو خود عیسائیوں کی سلطنت میں ان کا غلام بن کر رہا انہیں کی غلامی میں مرا۔