Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
347 - 4047
حدیث نمبر 347
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک یہودیہ عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچہ جنا جس کی ایک آنکھ سپاٹ تھی اس کی ڈاڑھ اگی ہوئی تھی ۱؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوف کیا کہ یہ ہی دجال ہوگا۲؎  اسے ایک کمبل کے نیچے پایا گنگنا رہا تھا۳؎  اس کی ماں نے خبر دیدی بولی اے اللہ کے بندے یہ ابوالقاسم ہیں۴؎  تو وہ کمبل سے نکل پڑا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خدا اسے غارت کرے اسے کیا ہوا ۵؎  اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ بیان کر دیتا،پھرحضرت ابن عمر کی حدیث کے معنی کی مثل ذکر کیا تب جناب عمر ابن خطاب نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کردوں ۶؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہ ہی ہے تو اسکے قاتل تم نہیں اس کے قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۷؎  اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں مناسب نہیں کہ ذمہ والوں میں سے کسی کو قتل کرو ۸؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس سے خوف فرماتے رہے کہ یہ دجال ہو ۹؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎  معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیدائشی کانا اور ڈاڑھ والا تھا،حدیث پاک کے ظاہری معنی یہ ہی ہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ یہاں ناب جنسی معنی میں ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس کی ساری ڈاڑھیں کیلیں پیدائشی تھیں۔

۲؎  اس کے متعلق عرض کیا جاچکا کہ یہاں دجال سے مراد چھوٹا دجال ہے اور ممکن ہے کہ بڑا دجال ہی مراد ہو اور یہ پہلے کا واقعہ ہو بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے دجال کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہوں۔

۳؎  اس گنگنانے میں وہ اپنے حالات خصوصی بیان کررہا تھا کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں،وہ سب کچھ ہی کہہ جاتا اگر اسے روکا نہ جاتا۔

۴؎  یعنی یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں تو اپنا گنگنانا چھوڑ،ان کا ادب و احترام کر۔معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی نیت بری نہ تھی اور منظور الٰہی یہ تھا کہ ابن صیاد کے حالات پردہ میں ہی رہیں۔

۵؎  یعنی اسے سوجھ گیا کہ میری خبر ابن صیاد کو دے کر اسے خاموش کر دیا کچھ دیر خاموش رہی ہوتی۔خیال رہے کہ عربی میں قاتلہ اللہ اظہار غضب کے لیے کہا جاتا ہے،اس سے بد دعا مقصود نہیں ہوتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتَلَہُمُ اللہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ"۔

۶؎  کیونکہ یہ بڑا فتنہ گر فسادی ہوگا اگرچہ یہ ابھی بے قصور بچہ ہے مگر حضرت خضر نے بھی تو ایک بے قصور بچہ کو اس لیے قتل کیا کہ وہ آگے چل کر فساد پھیلاتا مجھے بھی اس کے قتل کی اجازت دیجئے تاکہ فساد کی جڑ کٹ جائے۔

۷؎  یعنی اگر یہ وہ ہی بڑا دجال ہے جس کا خروج قریب قیامت ہوگا تو تم اس کے قتل پر قادر نہ ہو گے کہ یہ ارادۂ الٰہی کے خلاف ہے۔

۸؎  یعنی اسلامی قانون سے اس کا قتل جائز نہیں کہ یہ ہے یہودی ذمی اور ذمی کا قتل بغیر بڑے جرم کے جائز نہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام بھی اب کسی بے قصور بچے کو قتل نہیں کرسکتے کہ اب وہ بھی اسلامی قوانین کے پابند ہیں۔یہ دین موسوی نہیں جس سے حضرت خضر یا کوئی شخص الگ ہو۔

۹؎  اس کے متعلق پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حضور انور کا یہ خوف اولًا تھا پھر بعد میں تو حضور نے دجال کے ایسے حالات بیان فرمائے جن سے ہم سننے والوں کو یقین ہے کہ وہ دجال ابھی نہیں آیا۔ادھر تمیم داری کی وہ حدیث کہ انہوں نے ایک کلیسہ میں اسے زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھا واضح کرتی ہے کہ ابن صیاد دجال نہیں لہذا حضور انور کو بعد میں یقین تھا کہ یہ دجال نہیں ماں باپ کے حالات یکساں ہوسکتے ہیں،صفات کے ایک ہونے سے چند موصوف ایک نہیں ہوجاتے لہذا اس سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بے علمی یا کمی علمی ثابت نہیں ہوتی۔
Flag Counter