| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ اس سے یعنی ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور جناب ابوبکر و عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ملے ۱؎ تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۲؎ تو وہ بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۳؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالٰی اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اس کے رسولوں پر ایمان لایا،تو کیا دیکھتا ہے بولا میں عرش پانی پر دیکھتا ہوں۴؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو دریا پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے فرمایا تو اور کیا دیکھتا ہے وہ بولا میں دو سچے ایک جھوٹا یا دو جھوٹے ایک ایک سچا دیکھتا ہوں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر شبہ ڈال دیا گیا ہے ۵؎ اسے چھوڑو(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی کا فاعل حضرت ابو سعید خدری ہیں۔(مرقات)یہ ملاقات عوالی مدینہ میں اتفاقًا تھی اور ابن صیاد کے گھر تشریف لے جانے کا واقعہ دوسرا ہے،اس وقت ابن صیاد مسلمان نہ ہوا حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعد مسلمان ہوگیا،صحابہ کرام کے ساتھ اس نے حج کیا۔ ۲؎ اس کے متعلق پہلے عرض کیا گیا کہ ابن صیاد کا یہ قول حضور انور کے مقابلہ میں تھا ورنہ وہ مدعی نبوت نہ تھا۔ ۳؎ جیسے بعض اولیاء اللہ ابلیس اور اس کے تخت کو آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور اس پر لاحول پڑھ کر اسے دفع کردیتے ہیں،بعض بے دین کاہنوں کو بھی وہ نظر آتاہے اور وہ اس سے بہک جاتے ہیں خدا کی پناہ! ابن صیاد کا یہ دیکھنا اسی طرح کا تھا وہ یہ ہی بیان کررہا ہے۔ ۴؎ یعنی اسے اپنی معلومات پرخود ہی یقین نہیں کہ سچی خبر کونسی ہے جھوٹی کونسی تو اس سے کچھ پوچھ گچھ کرنا بے کار ہے۔ ۵؎ اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں ابن صیاد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معتقد ہوگیا تھا کہ حضور سے غیبی خبریں پوچھنے لگا تھا اور آپ کے جواب پرکسی قسم کی جرح قدح نہیں کرتا تھا،حضور کے پردہ فرمانے کے بعد تو مسلمان ہوگیا تھا۔معلوم یہ بھی ہوا کہ ابن صیاد بھی یہ جانتا تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو علم غیب ہے وہ جنت و دوزخ زمین و آسمان سب کی خبر رکھتے ہیں۔