Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
338 - 4047
باب قصۃ ابن صیاد

ابن صیاد کا قصہ  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎   اس کا نام عبداللہ ہے،لقب صاف،کنیت ابن صیاد یا ابن صائد،یہود مدینہ میں سے ایک یہودی کا لڑکا تھا جو بچپن میں بڑے شعبدے دکھاتا تھا بعد میں جوان ہوکر مسلما ن ہوگیا،عبادات اسلامی ادا کرتا تھا۔اس کے متعلق علماء کے تین قول ہیں: ایک یہ کہ وہ دجال نہیں تھا بلکہ مسلمان ہوگیا تھا،دوسرے یہ کہ وہ دجال تو تھا مگر وہ مشہور دجال نہ تھا۔حضور انور نے فرمایا ہے کہ میری امت میں بہت سے دجال ہوں گے یہ بھی انہیں دجالوں میں سے ایک دجال تھا۔تیسرے یہ کہ وہ دجال مشہور ہی تھا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ منورہ میں ہی مرا وہاں ہی دفن ہوا مگر یہ غلط ہے وہ جنگ حرہ تک دیکھا جاتا رہا،حرہ کے دن غائب ہو گیا۔تمیم داری والی حدیث میں جو دجال کا ذکر ہے اس کے متعلق مرقات میں ہے کہ اس جزیرے میں دجال کا جو جسم تمیم داری نے دیکھا وہ اس کا مثالی جسم ہے یہ جسم ظاہری۔و اللہ اعلم!
حدیث نمبر 338
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف چلے حتی کہ ان بزرگوں نے ابن صیاد کو بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں میں کھیلتا ہوا پایا ۱؎  یا اس دن ابن صیاد قریب بلوغ تھا تو اسے کچھ پتہ نہ لگا حتی کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا۲؎ پھر فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۳؎  اس نے آپ کی طرف دیکھا بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے پڑھوں کے رسول ہیں۴؎ پھر ابن صیاد بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۵؎  تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دبوچا ۶؎ پھر فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۷؎ پھر ابن صیاد نے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ۸؎ کہ میرے پاس سچے جھوٹے دونوں آتے ہیں ۹؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجھ پر یہ چیز خلط ملط کر دی گئی۱۰؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات سوچی ہے ۱۱؎  اور آپ نے یہ آیت سوچی"یَوْمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ"تو وہ بولا کہ دخ ہے ۱۲؎  فرمایا دور ہوجا تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھے گا۱۳؎حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ کیا مجھے آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن مار دوں۱۴؎  تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو تم کو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اسکے قتل میں تمہارے لیے بھلائی نہیں۱۵؎  ابن عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ابی بن کعب ایک دن اس باغ میں تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھجور کی شاخوں میں چھپنے لگے ۱۶؎  آپ اس حیلہ سے ابن صیاد سے کچھ سننا چاہتے تھے اس سے پہلے کہ وہ آپ کو دیکھے اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی کمبلی میں لپٹا ہوا تھا جس میں اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۱۷؎  ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کھجور کی شاخوں میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو بولی اے صاف یہ اس کا نام تھا ۱۸؎  یہ ہیں محمد،تو ابن صیاد نے گنگناہٹ بند کردی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر یہ اسے چھو ڑے رہتی تو یہ بیان کردیتا ۱۹؎  فرمایا عبداللہ ابن عمر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں میں کھڑے ہوئے تو اللہ تعالٰی کی وہ تعریف کی جو اس کے لائق ہے۲۰؎ پھر دجال کا ذکر فرمایا،پھر فرمایا کہ میں نے تم کو اس سے ڈرایا ہے اور نہیں ہے کوئی نبی مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ۲۱؎  چنانچہ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا اور میں تم سے اس کے متعلق وہ بات کہتا ہوں جو کسی نے اپنی قوم سے نہ کہی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے اور اللہ کانا نہیں ۲۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بنی مغالہ یہود مدینہ کا ایک قبیلہ ہے۔الحم جمع ہے الحمۃ کی بمعنی مضبوط قلعہ یا ٹیلہ یعنی اس وقت ابن صیاد یہود کے ان مکانات محلوں ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

۲؎  ابن صیادکا دعوی تھا کہ وہ آگے پیچھے اندھیرے اُجالے میں یکساں دیکھ لیتا ہے مگر اسے حضور انور کی تشریف آوری کا مطلقًا علم نہیں ہوا۔حضور انور اس کا دعویٰ جھوٹا کرنا چاہتے تھے اس لیے آپ نے پیچھے سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔

۳؎  اس فرمان عالی میں سارے ایمانیات کی تلقین ہیں جو کوئی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ کا رسول مان لے وہ توحید وغیرہ تمام عقائد کو مان لے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ کو اسلام کی تبلیغ کی جائے اور اس کا اسلام قبول کرنا معتبر ہے ورنہ حضور انور اسے یہ تبلیغ کیوں فرماتے۔

۴؎  یعنی آپ رسول تو ہیں مگر بے پڑھے لوگوں کے،میں خود عالم ہوں آپ میرے رسول نہیں۔بعض یہود کا عقیدہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف عرب کے رسول ہیں عام خلق کے رسول نہیں،یہ عقیدہ بھی کفر ہے اسی لیے ابن صیاد اس کہنے سے مؤمن نہ بنا۔

۵؎  ابن صیاد کا یہ قول محض حضور انور کے فرمان عالی کے مقابلہ میں ہے ورنہ وہ مدعی نبوت نہ تھا۔خیال رہے کہ کافر ذمی کو قتل نہیں کیاجاتا،نہ کافر بچہ کو قتل کیا جاوے نابالغ بچہ کا ارتداد معتبر نہیں ہے،ان وجوہ سے ابن صیاد قتل نہیں کیا گیا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر قادیانی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مدعی نبوت مرتد نہیں اور نہ اسے قتل کیا جائے اس حدیث کا منشا کچھ اور ہی ہے۔

۶؎  مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں فرفضہ ہے رفض سے مشتق بمعنی چھوڑنا یعنی حضور انور نے اسے چھوڑ دیا پھر اس سے یہ سوال نہ کیا۔عام نسخوں میں فرصہ ہے ص کے شد سے،یہ بنا ہے رصٌ سےبمعنی دبوچنا،بعض اعضاء کو بعض سے ملادیا،اسی سے ہے مرصوص،رب تعالٰی فرماتاہے:"کَاَنَّہُمۡ بُنۡیٰنٌ مَّرْصُوۡصٌ"بعض نسخوں میں ہے فرضہ نقطہ والی ضاد سے،رض کے معنی ہیں توڑنا مروڑنا۔

۷؎  یعنی میرا ایمان سارے رسولوں پر ہے اور تو رسول ہے نہیں پھرمیں تجھے رسول اللہ کیسے کہہ دوں،میں خاتم النبیین ہوں،سب سے آخری نبی،نہ میرے زمانہ میں کوئی نبی ہوسکتا ہے نہ میرے بعد۔خیال رہے کہ حضور انور کے زمانہ میں بھی کوئی نبی نہیں ہوسکتا،جو ایسا مانے وہ مرتد ہے خاتم النبیین کا منکر۔خیال رہے کہ جھوٹے مدعی نبوت سے معجزہ مانگنا کفر ہے جب اس کی تصدیق کی نیت سے ہو۔

۸؎  یعنی تجھے غائبانہ کون سی چیز نظر آتی ہیں جن کی بنا پر تو بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔

۹؎  یعنی میرے پاس جنات غیبی خبریں لاتے ہیں جن میں بعض سچی ہوتی ہیں اکثر جھوٹی۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ ابن صیاد نبوت کا مدعی نہ تھا بلکہ اپنے کو کاہن کہتا تھا،یہ نہ کہتا تھا کہ میرے پاس حضرت جبریل آتے ہیں اورمحمدی بیگم کے ساتھ میرے نکاح کی بشارت لاتے ہیں لہذا قادیانی لوگ اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑسکتے،مرزا جی اپنے کو صاف صاف نبی کہتے رہے۔

۱۰؎  یعنی خود تجھے اپنی خبروں کے متعلق اطمینان نہیں تو تیرے ذریعہ کسی اور کو اطمینان کیسے ہوسکتا ہے لہذا تیری صحبت خطرناک ہے۔

۱۱؎  ابن صیاد کا دعویٰ تھا کہ میں لوگوں کے دلوں کے حالات خیالات جانتا ہوں اس لیے حضور انور نے اس سے یہ سوال فرمایا۔معلوم ہوا کہ کاہنوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ان سے غیبی خبریں پوچھنا جائز ہے،حضور انور نے اس کا جھوٹ ظاہر فرمانے کو یہ سوال کیا اسے اس طرح رسوا کرنا ثواب ہے۔

۱۲؎  یعنی اس پوری آیت میں سے وہ پورا ایک لفظ بھی معلوم نہ کرسکا لفظ دخان کا صرف دخ معلوم کرسکا۔یہ ہی حال کاہنوں کا ہوتا ہے ان کی دس باتوں بلکہ سو میں سے ایک درست نکلتی ہے اور وہ سو میں سے ایک کا پتہ چلاتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور نے یہ آیت اس لیے دل میں سوچی کہ اس میں علامت قیامت کا ذکر ہے اور دجال بھی علامات قیامت سے ہے،نیز قتل دجال مرخ پہاڑ کے نزدیک ہوگا ان وجوہ سے حضور نے یہ آیت سوچی۔(اشعہ،مرقات)

۱۳؎  یعنی تو صرف ایک کاہن ہے نہ تجھے علم غیب ہے نہ تو خدا ہے نہ خدا کا مقبول بندہ پھر تو مجھ سے کیوں کہتا ہے کہ آپ میری نبوت کی گواہی دیتے ہیں تیری یہ حیثیت اور یہ بات۔

۱۴؎  یعنی چونکہ اس سے بڑا فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لیے اسے قتل کردینا مناسب ہے،یہ ہے حضرت فاروق کا جوش ایمانی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جو جادوگر لوگوں میں فساد پھیلاتے ہیں انہیں ہلاک کرتے ہیں بادشاہ اسلام انہیں قتل کرا دے۔

۱۵؎  یعنی اگر یہ دجال ہے تو ارادۂ الٰہی یہ ہی ہے کہ دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو یہ نابالغ بچہ بھی ہے ہمارا ذمی کافر بھی اسے قتل کرنا جائز نہیں،صرف کاہن ہونا قتل کے جواز کا سبب نہیں۔ حضور انور کا اگر مگر سے کلام فرمانا یا اس لیے تھا کہ اس وقت تک دجال کے متعلق حضور کو پورا علم عطا نہ ہوا تھا بعد میں حضور نے دجال کی شکل اس کے اعمال اس کے خروج کا وقت سب کچھ بتادیا،یہ اسرار الہیہ میں سے ہے جس کا اظہار مناسب نہیں،یہ شک کے لیے نہیں بلکہ تشکیک کے لیے ہے ایسے صیغہ قرآن مجید میں بھی آئے ہیں یہ  بےعلمی کی دلیل نہیں یہ ہی قول صحیح ہے۔

۱۶؎  عرب میں باغ والے لوگ اپنے باغ میں مکان بنالیتے ہیں وہاں ہی رہتے سہتے ہیں،ابن صیاد کے ماں باپ بھی انہیں میں سے تھے۔

۱۷؎  ابن صیاد بھی گنگناہٹ میں اپنے حالات بیان کردیتا تھا،حضور انور کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت یہ اپنی مستی میں اپنے حالات بیان کررہا ہے ہم خود بھی سن لیں اور اس کے متعلق صحیح فیصلہ کردیں۔اس سے معلوم ہواکہ بے دین مفسدین کے حالات چھپ کر دیکھنا سننا جائز ہے تاکہ ان کے فساد کی روک تھام ہوسکے،آج ملکی انتظامات میں جاسوسی کو بڑا دخل ہے۔جس تجسس سے قرآن کریم میں منع فرمایا گیا وہ مسلمانوں کی عیب جوئی کے لیے تجسس کرنا مراد ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

۱۸؎  یعنی حضور انور یہاں تشریف فرما ہیں تو ان کا ادب و احترام کر تعظیم کے لیے اٹھ اپنا گانا چھوڑ۔

۱۹؎ یعنی یہ بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہوا کہ وہ سب کچھ اپنے متعلق بیان کررہا تھا ایک واقعہ درپیش آگیا کہ وہ کہتے کہتے رک گیا۔معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کا یہ ہی منشاء ہے کہ اس کا حال صیغہ راز میں رہے ورنہ وہ اس وقت اپنی موج میں خود اپنے حالات بیان کررہا تھا کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں یہ کرسکتا ہوں۔

۲۰؎ حضور انورکا طریقہ مبارکہ تھا کہ اپنا کلام حمد الٰہی سے شروع فرماتے تھے وعظ عمومًا دوسرے کلام خصوصًا،یہ فرمان بطور وعظ تھا۔

۲۱؎  یہاں نبی سے مراد حضرت نوح علیہ السلام ا ور ان کے بعد والے پیغمبر ہیں جیساکہ گزشتہ حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کا ڈرانا اس کی اہمیت کے لیے تھا جیسے حضور نے صحابہ کو قیامت سے ڈرایا حالانکہ ان حضرات کے زمانہ میں قیامت آنے والی نہ تھی۔

۲۲؎  یہ فرمان عالی ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ابن صیاد دجال نہیں کہ حضور انور نے فرمایا کہ وہ کانا ہے اور ابن صیاد کانا نہ تھا،نیز یہ صاحبِ اولاد تھا،مدینہ منورہ میں رہتا تھا، مکہ معظمہ حج کے لیے جا تا تھا کیونکہ حضور کے بعد وہ مسلمان ہوگیا تھا۔مرقات نے  یہاں فرمایاکہ  ابن صیاد مدینہ منورہ میں مرا،اس پر مسلمانوں نے نماز پڑھی،اسے وہاں ہی دفن کیا مگر دوسری روایات میں ہے کہ وہ جنگ حرہ میں گم ہوگیا۔واللہ اعلم! بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یقین دلا دیا تھا کہ ابن صیاد دجال نہیں،تمیم داری کی حدیث آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔
Flag Counter