۱؎ غالب یہ ہے کہ امت سے مراد امت دعوت ہے جن پر فرض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائیں سارا عالم حضور کی امت دعوت ہے اور مسلمان امت اجابت اس صورت میں ایسی حدیث کی شرح وہ گزشتہ حدیث ہے کہ اصفہان کے یہودی دجال کی پیروی کرلیں گے۔یہاں امتی سے مراد وہ ہی یہود ہیں کہ وہ حضور کی امت دعوت ہیں اور ستر ہزار سے مراد ہزار ہا آدمی ہیں نہ کہ یہ عدد خاص مگر یہ توجیہ ضعیف ہے کہ اس سے مراد کلمہ پڑھنے والے مال دار مسلمان ہیں جیساکہ آگے مذکور ہے۔
۲؎ یعنی میری امت کے وہ لوگ دجال کو مانیں گے جو پہلے سے ہی فیشن پرست یہودونصاریٰ کے نقال ان کی سی شکل و صورت بنانے والے یہود کا سا نقشین فیشن ایبل لباس پہننے والے ہوں گے انہیں کا بیڑا غرق ہوگا،یا یہ مطلب ہے کہ ستر ہزار امیر لوگ دجال پر ایمان لے آئیں گے تو غریبوں کی تو شمار ہی نہیں،ایک ایک امیر کی دیکھا دیکھی بہت سے غریب بہک جائیں گے مگر آخری یہ توجیہ کمزور ہے کیونکہ فقراءمسلمین بفضلہ تعالٰی دجال کے شر سے محفوظ رہیں گے،ابن الوقت امیر لوگ زیادہ بگڑیں گے۔آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ اسلام غرباء کے دم سے قائم ہے نمازی،شہید،عالم حافظ عمومًا غریب ہی ہیں امیروں کے لیے صرف کالج اسکول ہیں،امیر لوگ عزت وجاہ حاصل کرنے کے لیے ہر دین اختیار کرلیتے ہیں۔(مرقات)