۱؎ آپ مشہور صحابیہ انصاریہ ہیں،بڑی عالمہ عاقلہ عابدہ زاہدہ تھیں۔
۲؎ گزشتہ احادیث میں ارشاد تھا کہ چالیس دن رہے گا یا تو یہ اختلاف احساس کا ہے کہ بعض کو وہ زمانہ چالیس سال کا محسوس ہوگا مگر سال بھی ایسے جو یہاں مذکور ہیں اور بعض کو چالیس دن محسوس ہوگا ۔(مرقات)یا دجال کا زمین پر رہنا چالیس سال کا ہوگا مگر اس کا زور آخر ی چالیس دن ہوگا لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں ان میں تعارض نہیں۔(اشعہ)
۳؎ شعف جمع شعفۃ کی،شعفۃ کجھور کی سوکھی شاخوں سوکھے پتوں کو کہتے ہیں یعنی اگر سوکھے پتوں سوکھی شاخوں میں آگ لگادو تو فورًا بھڑک اٹھتے ہیں اور جلدی راکھ بن کر بجھ جاتے ہیں ایک دن ایسا گزرے گا اس کی شرح گزشتہ احادیث میں گزر گئی۔