| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے تو آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا کہ دجال سے آگے تین سال ہوں گے ایک سال ایسا جس میں آسمان اپنی تہائی بارش روک لے گا اور زمین تہائی پیداوار ۱؎ دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار اور تیسرے سال آسمان اپنی پوری بارش روک لے گا اور زمین اپنی کل پیداوار۲؎ تو کوئی کھر والا ڈاڑھ والا جانور نہ بچے گا مگر ہلاک ہوجاوے گا۳؎ اور اس کے سخت ترین فتنوں میں سے یہ ہوگا کہ ایک بدوی کے پاس آوے گا کہے گا بتا تو اگر میں تیرا اونٹ زندہ کر دوں تو کیا تو یقین نہ کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۴؎ تو شیطان اس کے سامنے اس کے اونٹ کی شکل میں آجاوے گا جیسے تھن ہوتے ہیں اس سے اچھے اور خوب بلند کوہان ۵؎ فرمایا اور آوے گا ایک شخص کے پاس جس کے بھائی باپ مرچکے ہوں گے تو کہیں گے کہ بتا تو اگر میں تیرے سامنے تیرے باپ بھائی زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں وہ کہے گا ہاں۶؎ تو اس کے سامنے شیطان اس کے باپ بھائی کی شکل میں آجاوے گا۷؎ فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی کام کے لیے تشریف لے گئے پھر واپس ہوئے حالانکہ قوم بہت رنج و غم میں تھی۸؎ اس خبر کی وجہ سے جو حضور نے انہیں دی،فرماتی ہیں کہ حضور نے دروازے کے دو بازو پکڑ کر فرمایا اسماء کیا ہے۹؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکل گئے ۱۰؎ فرمایا اگر وہ نکلا اور ہم زندہ ہوئے تو اس کے مقابل ہم ہوں گے ۱۱؎ ورنہ میرا رب ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ہے۱۲؎ عرض کیا یارسول اللہ ہم اپنا آٹا گوندھتے ہیں تو روٹیاں نہیں پکاتے حتی کہ ہم بھوکے ہو جاتے ہیں تو اس دن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا۱۳؎ فرمایا انہیں وہ تسبیح وتہلیل کافی ہوگی جو آسمان والوں کو کافی ہوتی ہے۔
شرح
۱؎ یعنی دجال کی آمد سے نو برس پہلے ہی بے برکتی قحط سالی نمودار ہوجاوے گی پہلے تین سالوں میں جتنی بارش چاہیے اس کی تہائی ہوگی اور جتنا غلہ چاہیے اس کا تہائی ہوگا،اگلے چھ سالوں میں اس سے بھی کم بارش ہوگی اور کم پیداوار،یہ سخت آزمائش ہوگی اللہ تعالٰی جسے بچائے گا اس کا ایمان بچے گا۔ ۲؎ غرضکہ دجال کے آنے پر لوگ بالکل خالی ہاتھ بے دانہ قحط زدہ ہوچکے ہوں گے اب جب کہ اس کے نکلتے ہی اس کے ماننے والوں پر بارشیں غلہ کی بہتات،دودھ گھی کی فراوانی ہوگی تو بولو لوگوں کا ایمان کیسے بچے گا اللہ حافظ ہے۔ ۳؎ کھر والے جانوروں سے مراد گائے بھینس،بکری ہرن وغیرہ ہیں۔ڈاڑھ والے سے مراد اونٹ وغیرہ جانور ہیں۔ہلاکت سے مراد صرف مرجانا ہی نہیں بلکہ مرجانا یا قریب موت ہوجانا ہے یعنی قحط اور خشکی سالی کی وجہ سے جانور گویا فنا ہو جائیں گے لہذا یہ فرمان عالی اس فرمان کے خلاف نہیں کہ دجال کو مان لینے والوں کے جانور موٹے تازے اور خوب دودھ والے ہوجائیں گے اور انکار کرنے والوں کے جانور دبلے پتلے خشک ہوجائیں گے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور ہوں گے۔ ۴؎ یعنی جس بدوی کے اونٹ مرچکے ہوں گے اور وہ بڑا مغموم ہوگا اس سے دجال آکر یہ کہے گا اور اس سے یہ وعدہ لے گا۔ ۵؎ معلوم ہوا کہ جن شیاطین جانوروں کی شکل میں آسکتے ہیں۔چنانچہ جنات کتے اور سانپ کی شکل میں آجاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں ہے اور جس جانور کی شکل میں آتے ہیں اس کے خواص بھی ان میں ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اگر سانپ کی شکل میں آویں تو ان میں زہر ہوتا ہے،ان اونٹوں میں دودھ ہوگا لوگ اسے پئیں گے،موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی جب سانپ بنتی تھی تو کھاتی پیتی تھی"تَلْقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ"۔ ۶؎ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ دجال کو یہ خبر ہوگی کہ کس کا کون کون عزیز قریبی فوت ہوچکے ہیں تب ہی تو وہ سوال کرے گا،اسے رب کی طرف سے علم بھی دیا جائے گا اورتسلط و قدرت بھی یہ سب کچھ لوگوں کی آزمائش کے لیے ہوگا۔آج ابلیس کو ہر شخص کے دلی ارادے کی خبر ہے وہ تمام شرعی احکام سے واقف ہے،جانتا ہے کہ شریعت میں کون سا کام حرام ہے کون سا کام فرض یا واجب تب ہی تو وہ فرائض سے روکتا ہے،حرام کی رغبت دیتا ہے،جب اس بیماری کے علم کا یہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم جو اس بیماری کا علاج ہیں وہ بے خبر کیسے ہوسکتے ہیں۔ ۷؎ معلوم ہوا کہ وہ حقیقت میں اس کے ماں باپ نہ ہوں گے بلکہ محض دھوکہ ہوگا،شیاطین ان کی شکل میں ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ دجال زندوں کو مردہ کرکے زندہ کرسکے گا مگر پرانے مردے زندہ نہ کرے گا بلکہ ان کی شکل میں شیاطین ہوں گے۔ ۸؎ یہ حضور انور کے کلام کی تاثیر تھی کہ لوگوں کے دل بدل گئے۔بعض علماء کے واعظ سے بے نمازی لوگ نمازی بن جاتے ہیں،حضور انورکے الفاظ شریفہ سادہ ہوتے تھے مگر انسان کی کایا پلٹ دیتے تھے،آج رنگین تقریروں میں تاثیر نہیں۔ ۹؎ لحمتی تثنیہ ہے لحمۃ کا،لحمہ چوکھٹ کے بازو کو کہتے ہیں،لحمتین دونوں بازو و عتبہ نیچے کی چوکھٹ۔ ۱۰؎ یعنی دجال کے حالات لوگوں کے معاملات سن کر ہم تو پریشان ہوگئے کہ اگر وہ ہمارے زمانہ میں نکل آیا تو ہمارا کیا بنے گا ورنہ اس زمانہ کے مسلمان کیا کریں گے۔ ۱۱؎ معلوم ہوا کہ اگر دجال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں آتا تو حضور کے مقابل فیل ہوجاتا حضور کے ہاتھوں مارا جاتا اب یہ کام حضور انور کی نیابت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کریں گے۔حضور انور اپنی امت کے والی وارث نگہبان تھے اور ہیں اور رہیں گے۔امام بوصیری کہتے ہیں۔شعر احل امتہ فی حرز ملتہ کاللیث حل مع ابالا شبال فی الاجیم ۱۲؎ یہاں خلیفہ بمعنی نائب یا وکیل نہیں بلکہ بمعنی حافظ،ناصر،والی وارث و نگہبان ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کسی کا نائب نہیں ہوتا یعنی اگر میرے بعد دجال نکلا تو میری امت رب کے حوالہ ہے وہ ہی اس کا ناصر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی امت کا حقیقی نگہبان رب تعالٰی اور ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ ہرشخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ ۱۳؎ مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس وقت دجال کے ماننے پر مجبور ہوں گے کہ ننگا بھوکا ہر نہ کرنے والا کام کرلیتا ہے،اگر دجال کو نہ مانیں گے تو مرجائیں گے کیونکہ حالات وہ ہوں گے جو حضور فرمارہے ہیں تو مسلمانوں کا ایمان کیسے بچے گا یعنی میری امت سے کہہ دو کہ اس وقت تنگی رزق سے دل تنگ نہ ہوں،اس زمانے میں زمینی مؤمن عرشی فرشتوں کی طرح ہوں گے کہ ذکر اللہ سے ان کا پیٹ بھرتا رہے گا ذکر اللہ ہمیشہ ہی غذاء روحانی ہے مگر اس زمانہ میں غذا جسمانی بھی ہوجائے گا۔بعض اولیاءاللہ نے تین تین سال تک پانی نہیں پیا مگر زندہ رہے کیسے ذکر اللہ کی برکت ہے۔