۱؎ یعنی کوئی شخص تماشہ دیکھنے کے لیے بھی دجال کے پاس نہ جائے کہ اس میں خطرہ ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ"بروں کی صحبت بری ہے۔
۲؎ یعنی وہ یہ سمجھے گا کہ میں پختہ مسلمان ہوں مجھے دجال اور اس کے شعبدے اسلام سے ہٹا نہیں سکتے اپنی اس موہومہ پختگی کے دھوکے میں مارا جائے گا۔آج بھی بعض لوگ اپنے ایمان کو ناقابل تسخیر قلعہ سمجھ کر بدمذہبوں کی صحبت ان کے وعظ ان کی کتب کا مطالعہ اختیار کرتے ہیں اور بے دین بن جاتے ہیں،بہت لوگ مرزا قادیان کو محض دیکھنے گئے اور قادیانی بن گئے۔
۳؎ یعنی یہ شخص اپنے کوپختہ مؤمن سمجھنے والا اس کی شعبدے بازیاں دیکھ کر شک میں ضرور پڑ جائے گا کہ شاید یہ خدا ہی ہے یہ شبہ بھی کفر ہے،ان شبہات کے باوجود وہ اپنے کو مؤمن ہی سمجھتا رہے گا اور آہستہ آہستہ اس کا کفر اور بھی پختہ ہوتا رہے گا۔ایمان ایک دولت ہے بے دین لوگ اس دونوں کے چور ڈاکو ہیں اگر اس دولت کی حفاظت کرنی ہے تو ان چوروں سے الگ رہو۔