Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
330 - 4047
حدیث نمبر 330
روایت ہے حضرت ابوعبیدہ ابن جراح سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہ ہوئے مگر انہوں نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ۱؎  اور میں نے تم کو اس سے ڈرایا پھر آپ نے ہم سے اس کے وصف بیان کیے فرمایا شاید اسے بعض وہ لوگ پائیں گے جنہوں نے مجھے دیکھا یا میرا کلام سنا ۲؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے فرمایا آج کی طرح یا اس سے بھی اچھے ۳؎(ترمذی و  ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی دجال کا فتنہ اتنا بڑا ہے کہ نوح علیہ السلام کے زمانہ سے حضرات انبیاء کرام نے اپنی امتوں کو ڈرانا شروع کیا حالانکہ اس مردود کا خروج قریب قیامت ہوگا،وہ حضرات جانتے تھے کہ ہماری قومیں اسے نہ پائیں گی،کیوں ڈرایا،اس کی اہمیت و خطرناک ہونا دکھانے کے لیے جیسے قیام قیامت سے تمام نبیوں نے اپنی امتوں کو ڈرایا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ فتنہ صرف وہ ہی لوگ دیکھیں گے جو اس وقت موجود ہوں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضور انور کو دیکھنے سے مراد ہے انسان کا بیداری میں ان آنکھوں سے دیکھنا اور کلام سننے سے مراد ہے بلاواسطہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سننا،چونکہ اس زمانہ میں حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہوں گے بلکہ اس کا مقابلہ کریں گے جیساکہ پہلے گزرچکا اور حضرت خضر علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا بھی ہے، آپکاکلام بھی سنا ہے  بلکہ بیعت رضوان میں آپ نے ہاتھ شریف پر بیعت بھی کی ہے لہذا  حدیث واضح ہے اسی فرمان عالی کے  اور بہت  مطلب بیان کئے گئے ہیں: بعض نے کہا  کہ اس سے وہ جن صحابی مرا دہیں جو اس وقت موجودہوں گے،بعض نے کہا  کہ کلا م  سننے سے مراد بالواسطہ احادیث سننا ہے اور دیکھنے سے مراد خواب میں حضور کو دیکھنا ہے مگر یہ توجیہیں کمزور ہیں۔

۳؎  یعنی اس زمانہ میں مسلمانوں کے دل ایمان سے بھرپور ہوں گے،ان کے دلوں میں دجال کے متعلق کوئی شبہ نہ ہوگا،انہیں یقین ہوگا کہ یہ مردود و شعبدے باز کافر ہے ان کے دل حضرات صحابہ کرام کی طرح پاک وصاف ہوں گے اور صحابہ سے بڑھ کر آزمائش میں ثابت قدم رہیں گے کہ حضرات صحابہ کرام کا امتحان دجال سے نہیں لیا گیا لیکن درجہ صحابہ ہی کا بڑا ہوگا۔
Flag Counter