| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں نے تمہیں دجال کے متعلق خبریں دی حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ تم نہ سمجھو ۱؎ مسیح دجال پستہ قد ٹیڑھے پاؤں والا ۲؎ مٹھے ہوئے بال ایک آنکھ کا سپاٹ ہے وہ آنکھ نہ تو ابھری ہوئی ہے اور نہ دھنسی ہوئی۳؎ اگر تم پر اشتباہ ہو تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی ہم نے بہت ہی مجلسوں میں دجال کے بہت عیوب بیان کیے ہیں ممکن ہے کہ تم کو وہ سب یاد نہ رہیں تم بہت سی باتیں بھول جاؤ اس لیے ہم اس کے متعلق چند فیصلہ کن باتیں بتاتے ہیں جنہیں تم بے تکلف یاد کرلو۔ ۲؎ افحج بنا ہے فحج سے بمعنی ٹیڑھے قدم کہ جب کھڑا ہو تو اس کے پنجے بہت پھیلے ہوئے ہوں ایڑیاں قریب قریب ہوں پنڈلیاں پھیلی ہوں۔ قصیر بمعنی پستہ قد،ٹھنگنا۔جن روایات میں اسے عظیم کہا گیا ہے وہاں مراد موٹا ہے یعنی پستہ قد مگر بہت موٹا لہذا حدیث میں تعارض نہیں۔ ۳؎ یعنی ایک آنکھ ابھری ہوئی دوسری سپاٹ لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ اس کی ایک آنکھ بھری ہوئی ہوگی۔ ۴؎ یعنی اگر تم کو اس کے کرشمے دیکھ کر دھوکا لگے کہ شاید یہ خدا ہو تو اولًا تو اس کا کھانا پینا سونا وغیرہ بندہ ہونے کی علامت ہیں،ساتھ ہی کانے ہونے کا عیب خاص بندہ ہونے کی علامت ہے۔