۱؎ ام شریک دو ہیں: ایک ام شریک انصاریہ صحابیہ،دوسری ام شریک قرشیہ عامریہ،یہاں ام شریک قرشیہ مراد ہیں اور جن ام شریک کے پاس فاطمہ بنت قیس کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا تھا وہ ام شریک انصاریہ تھیں۔(اشعہ)یعنی احتیاطًا مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے بستیوں بلکہ جنگلوں میں نہ ٹھہریں گے کیونکہ اس زمانہ میں کوئی جگہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کی تعریف فرماتے ہوئے یہ فرمارہے ہیں۔معلوم ہوا کہ فتنہ کے زمانہ میں بستیاں چھوڑ کر گوشہ نشین ہوجانا اچھا ہے کہ اس میں دین کی بڑی حفاظت ہے۔
۳؎ جناب ام شریک نے پوچھا کہ عرب تو بڑے بہادر ہیں یہ لوگ دجال پر جہاد کیوں نہ کریں گے،فرمایا کہ اس وقت عرب اتنے تھوڑے ہوں گے کہ جہاد کرنے پر قادر نہ ہوں گے۔معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے قدرت شرط ہے۔