Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
320 - 4047
حدیث نمبر 320
روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال نکلے گا تو اس کی طرف مؤمنوں سے ایک صاحب متوجہ ہوں گے ۱؎ تو انہیں دجال کے سپاہی ملیں گے ۲؎  اور ان سے کہیں گے کہ کہاں کا ارادہ کر رہے ہو کہیں گے کہ میں اس کی طرف کا ارادہ کررہا ہوں جو نکلا ہے۳؎ فرمایا وہ لوگ ان سے کہیں گے کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے،وہ کہیں گے ہمارے رب میں پوشیدگی نہیں۴؎ تو یہ لوگ کہیں گے کہ اسے قتل کردو تو ان کے بعض بعض سے کہیں گے کیا تم کو تمہارے رب نے اس کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا ہے ۵؎ تو وہ انہیں دجال کے پاس لے جائیں گے مؤمن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا اے لوگو یہ ہی وہ دجال ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر فرمایا ۶؎ فرمایا تب دجال اس کے متعلق حکم دے گا تو انہیں لمبا ڈال دیا جاوے گاکہے گا اسے پکڑلو اور زخمی کردو ۷؎ چنانچہ ان کی پیٹھ اور پیٹ مار کر چوڑے کردیں گے ۸؎ فرمایا وہ کہے گا کیا مجھ پر ایمان نہیں لاتا فرمایا وہ کہیں گے کہ تو جھوٹا مسیح ہے ۹؎ فرمایا بس اس کے متعلق حکم دیا جاوے گا تو آرے سے ان کی مانگ سے چیر دیا جاوے گا حتی کہ ان کے پاؤں چیر دیئے جائیں گے ۱۰؎ فرمایا پھر دجال دو ٹکڑوں کے درمیان چلے گا پھر اس سے کہے گا کھڑا ہو وہ سیدھا کھڑا ہوجاوے گا ۱۱؎ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ کہے گا تیرے بارے میں میری بصیرت ہی زیادہ ہوئی۱۲؎  فرمایا پھر کہیں گے اے لوگو یہ میرے بعد اب کسی آدمی سے یہ نہ کرسکے گا۱۳؎  فرمایا پھر اسے دجال ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے گلے تک کے درمیان تانبہ کردیا جاوے گا۱۴؎ پھر وہ اس تک راہ پانے کی طاقت نہ رکھے گا فرمایا کہ پھر دجال ان کے ہاتھوں پاؤں کو پکڑے گا اور پھینک دے گا لوگ سمجھیں گے کہ اسے آگ کی طرف پھینکا مگر وہ جنت میں ڈالا جاوے گا ۱۵؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ شخص رب العالمین کے نزدیک تمام لوگوں میں بڑی شہادت والا ہوگا۱۶؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ صاحب مدینہ سے نکلیں گے۔غالبًا حضرت خضر علیہ السلام ہوں گے کیونکہ وہ اب تک زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے آپ ہی پر دجال کا زور ختم ہوگا۔(مرقات)

۲؎ مسالح ہے جمع مسلح کی،مسلح کے معنی ہیں ہتھیار رکھنے کی جگہ یعنی ملک کی سرحد پھر سرحد کے باشندے کو مسالح کہنے لگے کہ وہ لوگ ہر وقت ہتھیار بند رہتے ہیں،پھر محافظ سپاہیوں کو مسالح کہنے لگے کہ اکثر سپاہی ہتھیار بند ہوتے ہیں۔(لمعات،مرقات،اشعہ)معلوم ہوا کہ دجال اپنے سپاہی چھوڑے گا جو لوگوں کو اس مردود تک پہنچائیں گے۔

۳؎  آپ کا یہ فرمان نہایت حقارت کے انداز میں ہوگا۔خرج سے اشارۃً یہ فرمائیں گے کہ دجال راہِ حق سے نکلا ہوا ہے ایمان سے ہٹا ہوا ہے۔

۴؎  یعنی اے بیوقوفو! رب تعالٰی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ تمام عیوب سے پاک ہے تمام صفات سے موصوف ہے۔ دجال کھاتا پیتا ہے،پیشاب پاخانہ کرتا ہے،سوتا ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ وہ کانا ہے جس میں یہ عیوب ہوں وہ رب کیسا تم اسے رب کیوں مانتے ہو۔

۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ دجال کے سپاہیوں میں سے بعض کہیں گے کہ انہیں یہاں ہی قتل کردو بعض کہیں گے کہ نہیں انہیں دجال کے پاس لے چلو۔

۶؎  یعنی یہ صاحب دجال کی صورت اس کی کالی آنکھ کالا منہ دیکھ کر پکاریں گے کہ یہ خدا نہیں بلکہ خدا کا مردود بندہ ہے۔

۷؎  پہلا شبح     بمعنی چوڑا ئی میں ڈال دینا  یعنی مارنے کے لیے اس کو زمین پر الٹا لٹادینا جسے  پنجابی میں کہتے  ہیں لما  پا دینا۔دوسرا شبحو شبح سے  بمعنی زخمی کرنے سے ہے یعنی پہلے انہیں زمین پر لمبا ڈالو پھر انہیں اتنا مارو کہ زخمی ہوجاویں ان دونوں کی اور کئی شرحیں ہیں جو اسی جگہ لمعات میں مذکور ہیں۔

۸؎  پیٹھ چوڑی کرنا ایک خاص محاورہ ہے یعنی مار مارکر ایسا حال کردیں گے کہ اگر ان کی پیٹھ لوہے یا سونے چاندی کی ہوتی تو کٹ کٹ کر چوڑی ہوجاتی۔مقصد یہ ہے کہ بہت ہی ماریں گے مگر وہ اف نہ کریں گے،ہر کام اور ہر شخص کا ایک وقت ہوتا ہے۔حضرت خضر علیہ السلام دجال پر اپنی کرامت یا معجزہ نہ جاری کریں گے کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا ورنہ یہ خضر وہ ہیں جنہوں نے ایک اشارہ ے گرتی دیوار سیدھی کردی تھی اور ایک انگلی سے بچہ کا سراکھیڑ کر اسے مار دیا تھا جیساکہ قرآن میں ہے۔

۹؎  یعنی تو جھوٹا مسیح ہے جسے سچے مسیح علیہ السلام قتل کریں گے،یہ فیصلہ الٰہی ہے ورنہ میں ہی تجھے ہلاک کردیتا۔ (مرقات)

۱۰؎  اللہ اکبر یہ ہے اللہ کی راہ میں مصیبت جھیلنا کہ ککڑی کھیرے کی طرح آرہ سے چیرے گئے اف نہ کی لوگ یہ تماشا دیکھ رہے ہوں گے۔

۱۱؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ مقابلہ کے وقت کرامت و معجزہ سارے جادو اور استدراج پر غالب رہتا ہے مگر جب مقابلہ نہ ہو تو جادو،استدراج وغیرہ ولی نبی پر اثر کردیتے ہیں۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں سارے جادو گر فیل ہوگئے کہ وہاں مقابلہ تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو نے اثر کردیا کہ وہاں مقابلہ نہ تھا بعض انبیاء کرام کو تلوار سے شہید یا زخمی کیا گیا یہاں دوسری صورت ہے۔دوسرے یہ کہ اگر زندگی باقی ہو جب بھی عارضی موت آسکتی ہے۔حضرت خضر کی زندگی قریب قیامت تک ہے مگر آج وہ دجال کے ہاتھوں عارضی طور پر شہید کردیئے گئے، عیسیٰ علیہ السلام جن مردوں کو زندہ کرتے تھے وہ اپنی زندگی ختم کرکے مرے ہوتے تھے مگر اب دعا سے دوبارہ عمر پاتے تھے۔

۱۲؎  یعنی تیرا یہ کرشمہ دیکھ کر مجھے تیرے دجال ہونے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش گوئی کا اور زیادہ یقین ہوگیا پہلے علم الیقین تھا اب عین الیقین ہوگیا۔

۱۳؎  یعنی اس کی شعبدہ بازیاں ختم ہوئیں اب یہ کسی کو مار کر زندہ نہ کرسکے گا مجھ پر اس کا زور ختم ہوا اور مسیح پر اس کا شور ختم ہوجائے گا،یہ مرکر گمنام ہو جائے گا۔

۱۴؎  یعنی ذبح کے وقت جہاں چھری چلائی جاتی ہے وہاں یا تو بعینہ تانبہ کی تختی ہوجائے گی یا یہ جگہ تانبہ کی طرح سخت کر دی جائے گی جس پر چھری نہ چل سکے گی اور دجال یا اس کے سپاہی ان بزرگوں کو ذبح نہیں کرسکیں گے۔

۱۵؎  اس جنت و آگ کی تحقیق ابھی کچھ پہلے کی جاچکی ہے یعنی دجال اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے ان بزرگوں کو اپنی خود ساختہ آگ میں ڈالے گا جو دیکھنے میں آگ ہوگی مگر نار نمرود کی طرح درحقیقت نہایت آرام دہ باغ ہوگا۔

 ۱۶؎ یعنی یہ صاحب اس زمانہ کے تمام شہید مسلمانوں میں اول درجہ کے شہیدہوں گے کیونکہ ایک بار تو آرہ سے چیرے گئے پھر دوبارہ قتل و ذبح کے لیے لٹائے گئے پھر ظاہری آگ میں پھینکے گئے ان سب کے سوا ایسے موقع پر نہایت جرأت و ہمت سے مردانہ وار دجال کے مقابل ہوکر سینکڑوں کے ایمان کو بچا گئے اور ظاہر ہے کہ جیسے کارناموں جیسی تکلیف ویسا درجہ۔اس الناس میں حضرات شہداء احد،بدروحنین یا شہداء کربلا داخل نہیں کہ ان کے درجہ تک کوئی مسلمان تاقیامت نہیں پہنچ سکتا لہذا حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ سید الشہداء تو حضرت حمزہ یا شہداء کربلا امام حسین ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ درجہ ان کی نبوت کی وجہ سے سب سے بڑھ جاوے کہ نبی کا عمل غیر نبی کے عمل سے زیادہ درجہ رکھتا ہے۔
Flag Counter